کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 21
2۔ وفات کے وقت اگر کسی کی پیشانی پر پسینہ ہوتو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مؤمن کی موت‘‘ قرار دیا ہے۔[1] 3۔ جمعہ کی رات یا دن کو وفات پانے والے مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنۂ قبرسے حفاظت کی خوشخبری سنائی ہے۔[2] 4۔ میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کے مقام و مرتبہ کا تذکرہ تو قرآنِ کریم میں بھی آیا ہے: ’’(۱)انہیں مردہ نہ کہو۔(۲)وہ اللہ کے یہاں رزق دئیے جاتے ہے۔(۳)اللہ کے فضل پر خوش ہوتے ہیں۔(۴)انہیں کوئی خوف ہے نہ ہی کوئی حزن وملال۔(۵)وہ اللہ کی نعمتوں اور اسکے فضل سے مالا مال ہوتے ہیں۔‘‘ [3] اسی طرح ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (۱)خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور وہ جنّت میں اپنا مقام دیکھ لیتا ہے۔(۲)وہ عذابِ قبر سے محفوظ ہوجاتا ہے۔(۳)وہ سب سے بڑے خوف و ہول سے محفوظ ہوجاتا ہے۔(۴)اسے ایمان کا زیور پہنادیا جاتا ہے۔(۵)اسے حوارالعین عطا کردی جاتی ہیں۔(۶)وہ اپنے رشتہ داروں میں سے سَتّر لوگوں کی سفارش کرے گا۔‘‘ [4] جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ مؤمنوں میں سے صرف شہید ہی وہ شخص ہے جو فتنۂ قبر [1] مسندامام احمد۵؍۳۵۷،۳۶۰،ابن حبان:۷۳۰،مستدرک حاکم۱؍۳۶۱،طیالسی:۸۰۸ معجم طبرانی کبیرواوسط کمافی مجمع الزوائد ۲؍۳۲۵ [2] مسنداحمد:۶۵۸۲۔۶۶۴۶،ترمذی ولہٗ شواہد [3] سورۃ البقرہ،آیت:۱۵۴،سورۃ آل عمران،آیت:۱۶۹ [4] ترمذی۳؍۱۷،ابن ماجہ۲؍۱۸۴،مسنداحمد۴؍۱۳۱،۲۲۰