کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 18
اور متعلقہ بدعات کا یکے بعد دیگرے ذکر کرنے لگیں تو اسکے لیے ایک بڑا دفتر درکار ہوگا،لہذا یہاں ہم انتہائی اختصار کے ساتھ صرف بعض اہم و ضروری مسائل ہی آپ کے سامنے رکھنے پر اکتفاء کرینگے۔ مریض کی ذمہ داریاں: 1۔ بیماریاں اﷲکی طرف سے ہوتی ہیں لہٰذا مریض کو جزع فزع،چیخ و پکار اور بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ وہ صبر و شکیب سے کام لیتے ہوئے اﷲسے اجر وثواب اور صحت و عافیت کا امیدوار رہے۔یہ بیماری اسکی آزمائش و امتحان کے ساتھ ساتھ اسکے گناہوں کا کفّارہ اور اسکے لیے خیر ہی خیرہے۔جیسا کہ صحیح مسلم،بیہقی اور مسند احمد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((عَجَباً لِاَمْرِالْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ،وَلَیْسَ ذَالِکَ لِاَحَدٍ اِلَّالِمُؤْمِنٍ:اِنْ اَصَابَتْہُ سَرّآئُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْراً لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْراً لَہٗ))[1] 2۔ ہر شخص کو عموماََ اور بیمار کو خصوصاََ اﷲکے عذاب سے ڈرتے اور اسکی رحمتوں کا امیدوار رہنا چاہیئے کیونکہ ترمذی وابن ماجہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کی عیادت فرمائی جو کہ قریب الموت تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟ اس نے کہا:اے اﷲکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اﷲکی قسم ! مجھے اﷲسے(خیر کی)امید ہے اور میں اپنے گناہوں پر ڈر بھی رہا ہوں۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَحْتَمِعَانِ فِیْ قَلْبِ عَبْدٍ فِیْ مِثْلِ ھَذَا الْمَوْطِنِ اِلَّا اَعْطَاہُ اللّٰہُ مَایَرْجُو وَاَمَّنَہٗ مِمَّا یَخَافُ))[2] [1] مختصرمسلم:۲۰۹۲،بیہقی،مسنداحمد۔صحیح الجامع الصغیر:۳۹۸۰ [2] ترمذی،ابن ماجہ،صحیح الترغیب ۳؍۳۲۲