کتاب: مختصر مسائل و احکام نمازِ جنازہ - صفحہ 14
اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براء ت کا اظہار فرمایا ہے۔‘‘ ابوداؤد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عَہد لیا تھا: ((اَنْ لَّا نَخْمِشَ وَجْھاً وَلَا نَدْعُوْ وَیْلًا وَلَا نَشُقَّ جَیْباً وَلَا نَنْشُرَ شَعْراً))[1] ’’(کہ)مصیبت میں نہ ہم مُنہ نوچیں گی،نہ واویلا کریں گی،نہ کپڑے پھاڑیں گی،اور نہ بال بکھیریں گی۔‘‘ عورتیں چونکہ مَردوں کی نسبت کمزور طبع واقع ہوئی ہیں اور اُن سے ایسے امور کا صدور ممکن ہونے کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ عہد لیے اور اگر اس کے باوجود بھی کوئی عورت فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے تو ایسی عورت کے بارے میں صحیح مسلم،ابن ماجہ،مسند احمد اور بیہقی میں اِرشاد ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اَلنَّائِحَۃُ اِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ وَعَلَیْھَا سِرْ بَالٌ مِّنْ قِطْرَانِ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ))[2] ’’نوحہ خوانی کرنے والی عورت اگر توبہ کئے بغیر مر گئی تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں اٹھائی جائے گی کہ آتش گیر مادے(چقماق)کی قمیض پہنے ہوگی اور اسے خارش کی ذرع پہنائی جائے گی۔‘‘[3] [1] صحیح ابی داؤد(۲۶۸۵)،ریاض الصالحین ص:۶۳۵ [2] مسلم مع نووی ۳؍۶؍۲۳۵،۲۳۶،ابن ماجہ:۱۵۸۱۔۱۵۸۲،۱۹۵۲،مسند احمد ۵؍۴۲،۴۳،۳۴۴،ریاض الصالحین ص:۶۳۵،الصحیحہ ۴؍۴۹۵ [3] صرف بَین و نوحہ خوانی ہی نا جائزنہیں،بلکہ اس کا سُننا بھی درست نہیں ہے،کیونکہ ابو داؤد،مسند احمد،بیہقی،بزار اور طبرانی میں حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:(لَعَنَ رَسُوْلُ االلّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔۔النَّائِحَۃ وَالْمُسْتَمِعَۃ)(الفتح الربانی ۷؍۱۳۔۱۲)’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ خوانی کرنے اور سننے والی پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ تاہم یہ حدیث ضعیف ہے،تفصیل کیلئے تخریج صلو ٰۃالرسول رقم ۶۳۰۔