کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 99
اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر جاتے ہیں۔ بابُ: الشفاعۃ اس باب میں بیان کیا گیا ہے کہ سفارِش کی دو قسمیں ہیں۔ایک سفارش وہ ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے اور دوسری سفارِش وہ ہے جس کے قائل مشرک ہیں۔ قولہ وَ اَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّھِمْ لَیْسَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ(انعام:۵۱)۔ اور اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تم اسِ(علم وحی)کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اِس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی(ایسا ذی اقتدار)نہ ہو گا جو ان کا حامی اور مددگار ہو یا ان کی سفارش کرے شاید کہ(اس نصیحت سے متنبہ ہو کر)وہ خوفِ الٰہی کی روش اختیار کر لیں۔‘‘ قولہ تعالیٰ قُلْ للّٰه الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا(سورۃ زمر:۴۴) کہو شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ علامہ بیضاوی رحمہ اللہ اپنی مشہور تفسیر میں فرماتے ہیں:’’مشرکین جن لوگوں کو اپنا شفاعت کنندہ سمجھتے ہیں اُن کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ چونکہ یہ مقرب اور برگزیدہ ہیں اس لئے یہ ہماری شفاعت کریں گے۔قرآن مجید نے یہ کہہ کر کہ سفارش کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے اس عقیدہ کی تردید کی ہے۔‘‘ مفسر قرآن علامہ ابن جریر الطبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’مشرکین نے یہ کہا کہ ہم کسی وثن اور صنم کی قطعاً پوجا نہیں کرتے ہم تو ان اولیائے کرام کے نام کی نذرونیاز صرف اس لئے دیتے ہیں تاکہ یہ لوگ ہم گنہگاروں کے لئے قربِ الٰہی کا ذریعہ اور وسیلہ بن جائیں۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:(ترجمہ)