کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 79
اختیار نہیں ہوتا وہ دوسروں کے معاملات میں کس طرح تصرف کریگی؟تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ ارواح قطعی طور پر میرے قبضے میں ہیں اور ملحد و اصحابِ بدعت یہ کہتے ہیں کہ ان کو علی الاطلاق تصرفات حاصل ہیں:’’کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ‘‘؟۔(البقرۃ:۱۴۰)۔ علّامہ موصوف رحمہ اللہ مزید فر ماتے ہیں کہ:’’ان کا یہ عقیدہ کہ یہ تصّرفات ان ارواحِ اولیاء کی کرامت ہیں،تویہ ایک مغالطہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔کرامت تو من جانب اللہ اولیائے کرام کے لیے ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے کسی ولی اللہ کے ذریعے ظہور پذیر ہو تا ہے،کسی شخص کو اس میں نہ کوئی دخل ہوتا ہے نہ علم ہوتا ہے اور نہ اس کے اظہار پر قدرت حاصل ہوتی ہے اس مقام پر بہت سی آیا ت نقل کرنے کے بعد علامہ رحمہ اللہ موصُوف فر ماتے ہیں کہ:’’اللہ تعالیٰ نے یہ بات بار بار بیان فرمائی ہے کہ مصائب و مشکلات کو دُور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور تنہا وہی مصیبت زدہ اور مضطر لوگوں کی التجاء ودعاء کو سنتا اور شرف قبولیت بخشتا ہے،اسی سے استغاثہ کیا جاتا ہے،وہی تمام کائنات کا فریاد رس ہے،وہی مصائب و بلیات کو دور کرنے پر قادر ہے۔کسی کی خیر خواہی اس کو مقصود ہو تو وہی اصل خیر خواہ ہے،وہی خیر وبرکت کا مالک اور تقسیم کرنے والا ہے،وُہی اکیلا بلا شرکت غیرے سب کام انجام دیتا ہے۔‘‘ سوجب یہ بات ثابت ہو گئی کہ تمام اُمور فقط اسی ایک اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں تو اس سے انبیاء و اولیاء اور ملائکہ سب کے متصرف اور فریاد رس ہونے کی نفی ہو گئی۔‘‘ علامہ صنع اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ظاہری اور روز مرہ کے عادی معاملات میں،جو اُمور حسیہ میں سے ہیں،ایک دوسرے کی مدد کرنا اور باہم ایک دوسرے سے تعاون طلب کرنا جائز اور مباح ہے،جیسے جنگ کے موقع پر یا دشمن کے حملے کے وقت یا کسی درندے سے بچاؤ کے لیے ایک دوسرے کی امداد اور نصرت حاصل کرنا اور ایسے مواقع پر یازید،یا مسلمین! کہہ کر پکارنا،یہ سب افعالِ ظاہریہ میں سے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ یہ سمجھنا کہ دوسرے انسان کی مدد اور اس کا تعاون معنوی لحاظ سے اثر انداز ہوتا ہے اور اپنے اندر کوئی خاص قوت و تاثیر رکھتا ہے جیسے شدائد ومشکلات کا دُور ہو جانا یا کسی مریض کا صحت یاب ہو جانا یا کسی کے خوف سے نجات پا جانا یا غرق ہونے سے محفوظ رہنا یا تنگی اور فقرو فاقہ سے نجات پا جانا یا طلب رزق وغیرہ کرنا۔یہ سب اُمور،اللہ تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہیں،ان کے لیے کسی غیر اللہ کے آگے دست ِ طلب دراز نہیں کرنا چاہیئے۔‘‘ علامہ موصوف رحمہ اللہ اس سے آگے فرماتے ہیں کہ:’’یہ عقیدہ رکھنا کہ غیر اللہ کو بلیات و شدائد کو رفع