کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 322
عمار رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے۔سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’میں ایک دفعہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوا تو مجھے ایک شخص نے آواز دی ’’اے یمامی! اِدھر آؤ‘‘ لیکن میں اس کو نہیں پہچانتا تھا۔اُس نے کہا دیکھو! کسی سے یہ الفاظ نہ کہو کہ ’’اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تجھے کبھی نہ بخشے گا اور تجھے جنت میں داخل نہ کرے گا۔‘‘ میں نے عرض کی:اللہ آپ پر رحم فرمائے،آپ کون ہیں؟ اُس نے جواب دیا میرا نام ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)ہے۔عکرمہ بن عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا:یہ جملہ تو عام بولا جاتا ہے جب کوئی شخص اپنے خاندان میں سے کسی پر یا اپنی بیوی پر،یا خادم پر ناراض ہوتا ہے تو یہ الفاظ منہ سے نکل جاتے ہیں۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’بنی اسرائیل میں سے دو شخص آپس میں دوست تھے۔اُن میں سے ایک بہت عبادت گزار تھا اور دوسرے کے متعلق آپ کا ارشاد تھا کہ وہ گنہگار تھا۔عابد اُسے ہمیشہ یہ کہتا کہ یہ عادتِ معصیت ترک کر دو۔وہ جواب دیتا کہ تم میرا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو۔ایک دن ایسا ہوا کہ اُسے کسی ایسے گناہ میں مبتلا دیکھا جس کو وہ گناہ کبیرہ سمجھتا تھا کہنے لگا:تم باز آجاؤ۔گنہگار نے جواب دیا تو مجھے اللہ کے حوالے کر دے۔کیا تجھے میرا نگران مقرر کیا گیا ہے؟ عابد نے کہا:اللہ کی قسم نہ تو اللہ تمہاری مغفرت کرے گا اور نہ تجھے کبھی جنت میں داخل کرے گا۔اب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا اور اُس نے ان کی روحیں قبض کر لیں،دونوں اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔گنہگار سے کہا:تم میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جاؤ اور عبادت گزار سے فرمایا کیا تم میری رحمت کو میرے بندوں سے روک سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں اے میرے رب!!! اللہ نے فرشتوں سے کہا اِسے دوزخ کی طرف لے جاؤ۔‘‘ یہ واقع بیان کرنے کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اس شخص نے ایسی بات زبان سے نکالی جس نے اُس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر ڈالا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے یہ الفاظ حدیث کے اِن الفاظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اَحَدُھُمَا مُجْتَھِدٌ فِی الْعِبَادَۃِ یعنی ان میں سے ایک بہت عبادت گزار تھا۔ان احادیث میں لغزش زبان کا بیان ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کو گفتگو میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔جیسا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’کیا ہم اپنی گفتگو کی وجہ سے بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے!! تجھے معلوم نہیں کہ لوگوں کو دوزخ میں منہ کے بل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نتھنوں کے بل،ان کی زبانوں کی کترن(یعنی گفتگو)ہی گرائے