کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 254
ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ لوگوں کی اکثریت اسی وہم میں گرفتار ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان و یقین کی پختگی کی نعمت عطا فرما دی ہو،شہواتِ نفس کے غلبہ کے وقت ان کی عقل کامل اور شکوک و شبہات کے مقابلے میں وہ بصیرت تامہ سے بہرہ ور ہوں۔بس یہی وہ افراد ہیں جو شبہات اور وساوس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ذالک فضل الله یوتیہ من یشاء والله ذوالفضل العظیم۔ قول اللّٰه تعالی وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَ ادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰه قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(الاعراف:۶۵) زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اِصلاح ہو چکی ہے اور اللہ ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے ابوبکر بن عیاش رقمطراز ہیں کہ:’’زمین کے چپہ چپہ پر فساد برپا تھا،پس اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر زمین اور اہل زمین کی اصلاح فرمائی اور اب جو شخص کتاب و سنت کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے وہ فساد فی الارض کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔‘‘ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں زندگی برباد کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور شریعت اسلامیہ کی وضاحت سے اہل زمین کی اصلاح کے بعد کسی کا غیر اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دینا فساد فی الارض کی بدترین شکل ہے کیونکہ غیراللہ کی عبادت اور اس کی طرف دعوت دینا شرک ہے اور کتاب و سنت کی مخالفت درحقیقت فساد فی الارض اور شرک ہے۔پس شرک کرنا غیر اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دینا،اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو معبود ٹھہرانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی کرنا سب سے بڑا فساد فی الارض ہے۔اصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کو معبود مانا جائے،اسی کی توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے،اس کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی شخص کی بات پر عمل کرنے سے پہلے بڑے غور و فکر سے یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت تو نہیں کر رہا اور اگر کتاب و سنت کے برعکس بات کہہ رہا ہو تو اُس کی بات کو چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ شریعت اسلامیہ میں کسی کی سمع و اطاعت ہرگز نہیں کرنا چاہیئے۔دنیا کے حالات کا سرسری جائزہ لینے کے بعد انسان اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اصلاحِ حال کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ انسان اللہ