کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 246
کی بات کو وہ صحیح سمجھتا ہو عمل کیا جا سکتا ہے۔ہاں! جس شخص کے سامنے کتاب و سنت کے دلائل موجود ہوں اور پھر وہ کسی امام کے قول کی وجہ سے کتاب و سنت پر عمل نہ کرے تو ایسے شخص کی مخالفت کرنی چاہیئے۔مقلدین چونکہ کتابُ اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کناں ہیں اور اس کا مطالعہ نہیں کرتے،اور مطالعہ کا موقع ملتا بھی ہے تو علما اور فقہا کی کتب کے مطالعہ میں ڈوبے رہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں کتابُ اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے اعمال میں ترکِ سنت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ان کی مثال بالکل یہود و نصاریٰ جیسی ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(ترجمہ)’’انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے سوا رَبّ بنا لیا ہے۔اس آیت کریمہ کی مزید تشریح سیدنا عدی بن حاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کرتی ہے جو آئندہ صفحات میں آ رہی ہے۔ان شاء اللہ۔ پس جو شخص اپنی اصلاح کا خواہشمند ہے اُسے چاہیئے کہ علمائے کرام اور آئمہ عظام کی کتب کا مطالعہ کرتے وقت ان کے دلائل کی کتابُ اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطابقت پیدا کر لے کیونکہ مجتہدین اور ان کے متبعین اہل علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی بات کہتے وقت اس کی دلیل بھی ذکر کریں۔اس لئے کہ مسائل میں حق بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔حق کے متلاشی اور انصاف پسند شخص کو چاہیئے کہ وہ آئمہ اور علماء کے دلائل کو خوب پرکھ لے اور کتاب و سنت سے ملا لے تاکہ کتاب و سنت کے مطابق مسئلہ کی صحت واضح ہو جائے اور خطا و غلطی کا امکان باقی نہ رہے۔اس چھان بین کے سلسلے میں کتاب و سنت میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے بھی تقلید کی تردید اور مخالفت میں کوئی کمی نہیں رہنے دی۔کتاب و سنت کی موجودگی میں وہ تقلید کے بالکل قائل نہ تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں بعض مسائل کا علم نہیں ہے جس کا کسی دوسرے شخص کو علم ہو سکتا ہے۔اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو بہت سے مسائل کا علم تھا اس سلسلے میں اُن کے لئے بیشمار اقوال موجود ہیں چنانچہ اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب حدیث مل جائے تو سرآنکھوں پر،جب صحابہ کرام کا عمل ہمارے سامنے ثابت ہو جائے تو سر آنکھوں پر،اور اگر تابعین کا قول ہو تو پھر وہ اور ہم سب انسان(برابر)ہیں۔‘‘ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا:’’اگر میں ایک بات کہوں اور کتاب اللہ اس کے خلاف ہو تو میرا قول اس کے مقابلے میں مسترد کر دو۔امام صاحب سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ کا قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف ہو تو؟ امام صاحب نے کہا کہ پھر بھی میرے قول کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں ترک کر دو۔سوال کیا گیا کہ اگر آپ کا قول صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف