کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 200
وقت سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کے پورے دور میں عام لوگ دو فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ایک وہ جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کرلیا۔دوسرے وہ جنہوں نے انبیاء کی دعوت کا انکارکردیا اور کفرو شرک اور گناہوں پراصرار کرتے رہے۔جن لوگوں نے انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا،اللہ تعالیٰ نے ان کا زبردست امتحان لیا،ان کومختلف مصائب و مشکلات سے گذرنا پڑا اور ان کو خاص طور پر فتنوں اور آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا تاکہ سچے اور جھوٹے میں امتیاز پیدا ہوجائے۔جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا،اس کے متعلق یہ قطعاً خیال نہیں کیاجاسکتا کہ وہ اللہ کو عاجزکرسکتاہے یا اس سے سبقت لے جا سکتاہے۔البتہ جو شخص پیغمبروں پر ایمان لے آیا اور ان کی اطاعت کا دم بھرا تو اس کے دشمن اس سے اظہار عداوت کریں گے۔اس کو اذیتیں پہنچائیں گے اور اس قسم کے ابتلا میں ڈالیں گے جو اس کے لئے تکلیف کا باعث بنے۔جو شخص اللہ کے رسولوں پرایمان نہیں لاتا اور ان کی اطاعت نہیں کرتا،اس کو دنیا اور آخرت میں سزادی جائے گی اور ایسی چیزیں اس کے لئے پیدا کی جائیں گی جو اس کو اذیت پہنچانے کا باعث بن سکتی ہوں۔اتباعِ الٰہی سے گریز کرنے والوں کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ اتباع کو بہت بڑے الم اور عظیم اذیت سے تعبیرکرتے ہیں۔مگر یہ الم ان کے لئے عظیم تر اور ہمیشہ رہنے والا ہوگا اور ان کی اتباع کی فرضی الم انگیزیوں سے اس کی اذیت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوگا۔پس جن لوگوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گذارنے لگے تو مخالفین نے ان کو طرح طرح کی اذیتیں دیں اور ان سے انتہائی وحشیانہ سلوک روارکھا…اللہ تعالیٰ کی سنت ابتدائے آفرینش سے یہ چلی آرہی ہے کہ کوئی شخص ایمان باللہ کااعلان کرتا ہے یا نہیں کرتا،اس دارِ دنیا میں بہرحال اسے مصائب و مشکلات سے ضرور گزرنا پڑتاہے۔لیکن مومنین کو ابتدا میں اس دارِ فانی میں مصیبت اورتکلیف تو ضروراٹھانی پڑے گی البتہ آخرت کی بازی وہ جیت جائیں گے اور عاقبت کی خوشیاں ان ہی کے حصہ میں ائیں گی۔رہے وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو ٹھکرادیا اور ان کی مخالفت میں زندگی برباد کر بیٹھے،ان کو بھی اس فانی دنیا مصائب و مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ایسے لوگوں کو ابتدا میں تو لذت اور خوشی محسوس ہوتی ہے لیکن آخرت کا عذاب اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ان کے حصے میں ائے گی۔وہ ایسا عذاب ہے جو ختم ہونے والانہیں ہے۔ اس عارضی دنیا میں انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں میں مل جل کررہے۔ہر شخص کے ارادے اورتصورات مختلف ہوتے ہیں اور ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی بات کو اولیت کا درجہ دیں۔جو شخص ان کا ساتھ نہیں دیتا اسے مختلف قسم کی مشکلات میں ڈال دیا جاتا ہے اور جو شخص ان کی ہاں میں ہاں ملاتا