کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 153
مدح سے کی ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے بیان کی تعریف فرمائی ہے۔ایک دفعہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں ایک سائل آیا اور اس نے اپنے سوال کو انتہائی فصاحت و بلاغت سے پیش کیا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ واللہ یہ جادو ہے۔لیکن حلال ہے۔‘‘ ایک مقام پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’ جو شخص حق کو پامال کرنے میں فصاحت و بلاغت سے کام لے وہ عندالله انتہائی ناپسندیدہ ہے۔وہ اس طرح زبان کی کمائی کھاتا ہے جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔‘‘(مسند احمد،ابوداؤد) و عن ابن مسعود أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ أَلَا ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ مَا الْعَضْہُ ھِیَ النَّمِیْمَۃُ اَلْقَالَۃُ بَیْنَ النَّاسِ(رواہ مسلم) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں العضہ کے بارے میں بتاؤں کہ وہ کیا ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا کہ وہ چغلی کھانا ہے۔یعنی دو شخصوں میں ایسی بات بنانا جس سے وہ آپس میں لڑائی جھگڑے پر اتر آئیں۔ ولہما عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ إِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا(صحیح بخاری ومسلم) صحیح بخاری و مسلم مین عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فصاحت و بلاغت میں بھی جادو کا اثرہوتاہے۔ فیہ مسائل ٭عیافہ،طرق اور الطیرہ جادو ہی کی اقسام ہیں۔٭ عیافہ اور طرق کی مکمل وضاحت اور تفصیل بیان کی گئی ہے۔٭علم نجوم بھی جادو کی ایک قسم ہے۔٭پھونک مار کر گرہ دینا جادو ہے۔٭چغلی کھانا جادو کی ایک شکل ہے۔٭بعض اوقات فصاحت وبلاغت سے بات کرنا بھی جادو کہلاتا ہے۔ بابُ: مَا جَاءَ فی الکُھّان و نحوھم