کتاب: مختصر ہدایۃ المستفید - صفحہ 101
کو کالعدم قرار دے دیا ہے جن کو کسی نہ کسی صورت میں مشرکین عقیدۂ سفارش کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اس لئے کہ مشرک غیر اللہ کو صرف اس لئے معبود بناتا ہے کہ اُسے اس سے کوئی فائدہ اور نفع حاصل ہو لیکن جب تک کسی شخص میں مندرجہ ذیل چھ صفات نہ پائی جائیں اس وقت تک اُس سے نفع کی توقع عبث ہے:(۱)۔اسے نفع اور فائدہ پہنچانے پر قدرت یا ملکیت اور اختیار ہو۔(۲)۔ملکیت حاصل نہ ہو تو شریک ملکیت ہو۔(۳)۔شرکت بھی میسر نہ ہو تو مالک کا معین و مددگار ہو۔(۴)۔اگر مددگار بھی نہیں تو کم از کم مالک کے ہاں اس کی یہ حیثیت تو مُسَلَّم ہو کہ اس کی سفارش مانی جاتی ہے۔(۵)۔اُس کے پاس ایسی ہی سلطنت و ملکیت ہو۔(۶)۔طاقت و قوت میں اُس سے بڑھ کر ہو۔ پس ایک عقلمند،اور صاحب بصیرت شخص کے لئے اس آیت میں ہدایت اور دلائل کی دولت موجود ہے اور توحید الٰہی سمجھنے کے لئے شمع نور ہویدا ہے۔شرک و بدعت کی جڑیں کاٹنے کے لئے یہ آیات تلوارِ بے نیام کی حیثت رکھتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اس قسم کی آیات سے بھرا پڑا ہے لیکن افسوس ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس کی وجہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ لوگوں میں شعور کا مادہ ختم ہو چکا ہے اور شرک و بدعت میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اُن کا واپس آنا مشکل نظر آتا ہے کہ مشرکین یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے آباؤ واجداد نے جو سوچ اور فکر ان کو دی ہے وہ اس کے واحد وارث ہیں جس کی حفاظت ان کا فرض ہے یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کا قلب فہم قرآن کی طرف مائل نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! ان مشرکین کے آباؤ و اجداد،اپنے ہی جیسوں کو یا اپنے سے زیادہ شریروں کو وارث بنا گئے ہیں چنانچہ قرآن پاک ان کو اور انُ کو برابر رکھتا ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ ان آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:’’٭مردوں سے اپنی حاجات طلب کرنا۔اور ٭اُن سے استغاثہ اور فریاد کرنا۔دنیا میں سب سے بڑا شرک ہے۔اس لئے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع اور ختم ہو چکا ہے۔اور جب وہ خود اپنی جان کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں رہا تو وہ دوسرے کی فریاد سن کر کیا جواب دے گا؟ اب تو دوسروں کی شفاعت اس کے لئے ممکن ہی نہیں رہی۔شفاعت طلب کرنے والا اور جس کو شفاعت کنندہ سمجھ لیا گیا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ قدس میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کی شفاعت کرنا تو درکنار اونچی آواز سے بول بھی نہیں سکتا۔اور سب سے غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے استغاثہ،فریاد رسی اور سوال کرنے