کتاب: مکالمات نور پوری - صفحہ 904
5۔ (فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ) سے قراءت کی کسی مقدار کی فرضیت توآپ کے وضع کردہ قواعد کے مطابق تب نکل سکتی ہے کہ یہ قطعی الثبوت ہونے کے ساتھ ساتھ قطعی الدلالہ بھی ہو یعنی اس کا ایک معنی اتنا واضح اور متعین ہوکہ دوسرے کی گنجائش ہی نہ ہو مگر یہاں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس کا معنی ایک آیت نقل ہورہاہے چھوٹی ہو یا بڑی اورصاحبین سے تین چھوٹی آیات یا ایک لمبی آیت استاد اور شاگرد ہی ایک مفہوم پر متفق نہیں ہوسکتے کیا قطعی الدلالہ اسی کو کہتے ہیں کہ استاد اور شاگرد ہی متفق نہ ہوسکیں کہ اس کا معنی کیا ہے۔ پھر ان کے ایک مقلد جو قرآن کی تفسیر میں بھی اپنے حنفی ہونے پر فخر کرنے سے نہیں جھجکتے میری مراد آلوسی حنفی ہیں روح المعانی میں فرماتے ہیں:
(فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ اَيْ فَصَلُّوْا مَا تَيَسَّرَ لكُمْ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ)
یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رات کی نماز جتنی آسانی سےپڑھ سکتے ہو پڑھو تو جس آیت کے مفہوم آپ ہی کے گھر سےکبھی کچھ نکلتے ہوں کبھی کچھ، وہ کسی چیز کی فرضیت کی دلیل بن سکتی ہے؟تو جب آپ کی تقسیم کاپہلا فرد”ایک آیت یا تین آیات کا فرض ہونا“ ہی آپ کے قواعد کے مطابق ثابت نہیں دوسرے دو فرد کس طرح ثابت ہوں گے جو آپ نے پہلے فرد کو قائم رکھنے کے لیے ایجاد کیے ہیں۔
6۔ آخرمیں یہ وضاحت بھی آپ سے کروانا ضروری ہے کہ عشاء کی پہلی دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھنےاور کوئی اور سورۃ پڑھنے کی صورت میں جو دوسری دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنے سے روکا گیا ہے یہ نماز واجب الاعادہ ہے یانہیں؟ جب کہ اس صورت میں چاروں رکعتوں میں ہی سورۃفاتحہ نہیں پڑھی گئی؟ فی الحال اسی پر اکتفاء کرتا ہوں:وان تعودوانعد ان شاءاللّٰه ذوالود۔
مہر
جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ عبدالسلام بھٹوی
جامعہ محمدیہ۔ جی ٹی روڈ۔ گوجرانوالہ
29 ذوالقعدہ 1405ھ