کتاب: مکالمات نور پوری - صفحہ 903
فرمان کے مطابق سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی آپ فرماتے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی سورہ فاتحہ کےبغیر نماز نہیں ہوتی اور اس کاحوالہ پیش فرمادیتے۔ اس کے بغیر آپ لاکھ کہیں سورۃ فاتحہ کے بغیر ناقص ہے، یہ ہے، وہ ہے، جب تک”نہیں ہوتی“ امام صاحب سے ثابت نہ کریں تعارض نہیں اُٹھ سکتا۔ مگر آپ نے یہ بات نہیں لکھی۔ سائل کا سوال توحل نہ ہوا ہاں آپ کی اس تقسیم سے کئی اور سوال پیدا ہوگئے:
1۔ ضروری قراءت کی یہ تین قسمیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بنائی ہیں یا آپ اور آپ کے علماء نے؟ اگرامام صاحب نے بنائی ہیں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ حوالہ لکھیں جہاں صحیح سند کے ساتھ امام صاحب کا قول مذکورہوکہ مطلق ایک آیت کی قراءت فرض ہے، سورۃ فاتحہ کی قراءت واجب ہے اس کے ترک سے نماز ناقص اور واجب الاعادہ ہوگی اورفاتحہ سے زائد کی قراءت ایساواجب ہے کہ اس کے ترک سے نمازناقص ہے۔ آخر امام صاحب کے شاگردان رشید کی کتابیں موجود ہیں جن میں وہ اپنے استاد کے اقوال ذکر فرماتےہیں۔ امام صاحب کےہم عصر مصنفین کی کتب میں ان سےسننے والوں سے آپ کے اقوال منقول ہیں۔ بعد کی بہت سی کتابوں میں بھی آپ کے اقوال باسند صحیح مل جاتے ہیں۔ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ تینوں قسمیں امام صاحب سے ثابت کریں۔ اپنی اور اپنے علماء کی باتیں امام صاحب کے نام نہ لگائیں۔
2۔ اور اگر یہ تقسیم آپ کی اور آپ کے علماء کی ہے تو جب امام صاحب نے بتائی نہیں آپ نے خود اجتہاد شروع کردیا ہے تو آپ مقلد کیسے رہ گئے۔ پھر غیر مقلدیت سے بچنے کی آپ نے کیا صورت سوچی ہے؟
3۔ واجب کادرجہ جو آپ نے ذکر کیا ہے کوئی شرعی درجہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھا یاصرف آپ لوگوں کا فن اور اصطلاح ہے؟
4۔ سورہ فاتحہ سے زائد قراءت کے ترک سے نماز کا اعادہ ضروری ہے یا صرف نماز ہی ناقص ہوتی ہے؟ یہ وضاحت آپ نے نہیں فرمائی۔