کتاب: مکالمات نور پوری - صفحہ 902
آیات پڑھ لی قراءۃ کی فرض مقدار ادا ہو گئی۔ لیکن واجب کے چھوٹ جانے سے نماز ناقص اور واجب الاعادہ ہوگی امام صاحب کی ہر گز یہ مراد نہیں اور نہ آپ کا مذہب ہے کہ صرف ایک آیت پڑھنے سے نماز کامل ہو جاتی ہے بلکہ اس میں قراءۃ کی مقدار فرض کا ذکر ہے اور کوئی شخص نماز میں(مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ) تک سورۃ فاتحہ پڑھ لے تو قراءۃ فرض کی مقدار پوری ہو جاتی ہےالخ۔ “
اس سے پہلے لکھتے ہیں:
”نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اور اس کے ساتھ سورۃ ملانا بھی واجب ہے۔
اگر کوئی منفرد یا امام، سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اور باقی قرآن شریف پڑھ لے تو نماز ناقص اورواجب الاعادہ ہے۔ اسی طرح اگر سورۃ فاتحہ پڑھ لی جائے اور قرآن کریم کی کوئی سورۃ ساتھ نہ ملائی جائے تو نماز ناقص ہے کیونکہ واجب چھوٹ گیا۔ “
اس سے معلوم ہوا کہ مفتی صاحب نے ضروری قراءت کی تین قسمیں بنائی ہیں:
1۔ ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات کی مقدار فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی نہ کامل نہ ناقص۔ (ہدایہ میں یہ مذہب صاحبین کا لکھا ہے امام ابو حنیفہ کا مذہب صرف ایک آیت لکھا ہے چھوٹی ہو یا بڑی)
2۔ سورۃ فاتحہ کی قراءت واجب ہے اس کے چھوڑنے سے نماز ناقص اور واجب الاعادہ ہوگی۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ وہ ہوگی ہی نہیں۔
3۔ سورۃ فاتحہ کے ساتھ قرآن کے کچھ اور حصہ کی قراءت، ایسا واجب ہے کہ اس کے چھوڑنے سے نماز ناقص ہے مگر یہاں اسے واجب الاعادہ نہیں فرمایا۔
ضروری قراءت کی تین قسمیں بنانے کے باوجود سائل کا سوال اپنی جگہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی جبکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایک آیت پڑھنے سے ہو جاتی ہے۔ آپ کو اتنی محنت کی ضرورت ہی نہ تھی تعارض صرف یوں اٹھتا تھا کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے