کتاب: مکالمات نور پوری - صفحہ 898
ساتھ ایک پوری سورۃ یا تین آیات پڑھے سائل عبارت کا مفہوم نہیں سمجھا۔ “ حقیقت یہ ہے کہ مفتی صاحب خود عبارت کا مفہوم نہیں سمجھے یا پھر انھوں نے دانسۃ طور پر مغالطہ دیا ہے کیونکہ (ثم يقرأ فاتحة الكتاب) والی عبارت میں اور (وأدنى ما يجزئ من القراءة آية) والی عبارت میں پیوند نہیں لگایا جاسکتا۔ کیونکہ صاحب ہدایہ نے(ثم يقرأ فاتحة الكتاب) یعنی سورۃ فاتحہ پڑھے الخ اس سلسلہ کلام میں ذکر کیا ہے جس میں نماز کا طریقہ ذکر کیا ہے اور فرائض و سنن سب ذکر کیے ہیں یعنی وہ چیزیں بھی جن کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور وہ بھی جن کے بغیر ہو جاتی ہے چنانچہ اس عبارت کے ساتھ ہی خود صراحت کردی ہے: (فَقَرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ لَا تَتَعَيَّنُ رُكْناً عِنْدَنَا وَكَذَا ضَمُّ السُّوْرَةِ اِلَيْهَا) یعنی سورہ فاتحہ ہمارے نزدیک ایک رکن کی حیثیت سے متعین نہیں ہے نہ ہی اس کے ساتھ سورۃ ملانا جب کہ شافعی اور مالک ہمارے خلاف ہیں مختصراً اور پھر اپنےمخالفین کی دلیل یہ حدیث لکھی ہے: (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) اور اپنی دلیل(فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ)لکھی ہے اگر صاحب ہدایہ کا مطلب ہے کہ (وأدنى ما يجزئ من القراءة آية) سے مراد سورۃ فاتحہ کے بعد ایک آیت ہے تو یہ تو انھوں نے امام مالک کا مذہب بتا کر اپنے خلاف قراردیا ہے کیونکہ وہ سورۃ فاتحہ و مازاد کو نماز کا رکن قراردیتے ہیں اور(فَصْلُ فِي الْقِرَاءتِهٖ) میں امام ابو حنیفہ کا قول اس قراءت کے متعلق لکھا ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی جو(مُجْزِي فيِ الصَّلَاةِ) ہے اور رکن ہے۔ اور وہ صرف ایک آیت ہے۔ اب آپ وہ ساری عبارت ملاحظہ فرمائیں جس میں صاحب ہدایہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور صاحبین کا مسلک اور ان کی دلیلیں ذکر کی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی مراد مطلق قراءت نہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: (وأدنى ما يجزء من القراءة في الصلاة آية عند أبي حنيفة رحمة اللّٰه عليه وقالا