کتاب: مکالمات نور پوری - صفحہ 443
یوسف سے بیان کیا اور محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں مجھے محمد بن یوسف نے اپنے دادا سائب بن یزید سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے انتہی میں کہتا ہوں یہ اس روایت کے قریب ہے جو مالک نے محمد بن یوسف سے بیان کی یعنی عشاء کے بعد دو رکعتیں ملا کر۔ “(التعلیق الحسن ص302) تو منقولہ بالا عبارت دلالت کر رہی ہیں کہ یحییٰ بن سعید اور عبدالعزیز بن محمد نے امام مالک کی متابعت کی ہے اور متابعت موافقت کا نام ہے نہ کہ مخالفت کا چنانچہ شرح نخبہ میں لکھا ہے: (وَما تقدَّم ذِكرُه مِن الفَرْدِ النِّسْبِيِّ؛ إِنْ وُجِدَ - بعدَ ظَنِّ كونِه فَرْداً - قد وافَقَهُ غيرُهُ، فهُو المُتابِعُ ) (ص44) ”اور جس فرد نسبی کا ذکر پہلےہو چکا ہے اسے فرد سمجھنے کے بعد اگر کوئی دوسرا راوی مل جائے جس نے اس کی موافقت کی ہو تو وہ متابع ہے۔ “ نیز ایک توجیہ کے مطابق محمد بن اسحاق بھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی متابعت کرتا ہے جیسا کہ صاحب آثار السنن کے کلام سے مترشح ہو رہا ہے۔ 3۔ ( قال العلامة ابن الصلاح رحمه الله: "الْمُضْطَرِبُ مِنَ الْحَدِيثِ: هُوَ الَّذِي تَخْتَلِفُ الرِّوَايَةُ فِيهِ؛ فَيَرْوِيهِ بَعْضُهُمْ عَلَى وَجْهٍ وَبَعْضُهُمْ عَلَى وَجْهٍ آخَرَ مُخَالِفٍ لَهُ؛ وَإِنَّمَا نُسَمِّيهِ مُضْطَرِبًا إِذَا تَسَاوَتِ الرِّوَايَتَانِ؛ أَمَّا إِذَا تَرَجَّحَتْ إِحْدَاهُمَا بِحَيْثُ لَا تُقَاوِمُهَا الْأُخْرَى بِأَنْ يَكُونَ رَاوِيهَا أَحْفَظَ، أَوْ أَكْثَرَ صُحْبَةً لِلْمَرْوِيِّ عَنْهُ، أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ التَّرْجِيحَاتِ الْمُعْتَمَدَةِ، فَالْحُكْمُ لِلرَّاجِحَةِ، وَلَا يُطْلَقُ عَلَيْهِ حِينَئِذٍ وَصْفُ الْمُضْطَرِبِ وَلَا لَهُ حُكْمُهُ اھ) (علوم الحدیث ص84)