کتاب: مباحث توحید،تفسیر جواہر القرآن اور تفسیر تبیان الفرقان کا تقابلی مطالعہ - صفحہ 1
کتاب: مباحث توحید،تفسیر جواہر القرآن اور تفسیر تبیان الفرقان کا تقابلی مطالعہ مصنف: حافظ محمد اکرام پبلیشر: شعبۂ علوم اسلامیہ، جامعہ پنجاب لاہور ترجمہ: مقدّمہ الحمد للّٰه رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوٰة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين وعلى آله و أصحابه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين أعوذ باللّٰه من الشيطن الرجيم بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم. اللہ رب العزت اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے وحدہ لا شریک ہیں۔اسی لیے اس نے اپنی وحدانیت اور اس کے اثبات کے لیے آفاق و انفس کے بے شمار دلائل ہر وقت انسان کے سامنے دے دیے ہیں تاکہ وہ اس کی وحدانیت اور توحید کے لوازمات کو اس کے اصل تقاضوں کے مطابق سمجھ سکیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزازیں تاکہ سرخرو ہو سکیں۔اپنی وحدانیت کے انہی نکات کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے اس نے انبیا ئے کرام اور الہامی کتب کا سلسلہ جاری کیا اور اس سلسلہ کی آخری کڑی قرآن مجید ‘فرقان حمید کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے حضرت انسان کی رہنمائی کے لیے آخری کتاب ہدایت یعنی قرآن مجید نازل فرمایا،اور یہ بات مسلمہ ہے کہ انسان کے اعمال کی قبولیت کا دارومدار عقیدہ توحید کی درستی پر ہے۔ توحید ہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پہ اسلام کی پوری کی پوری عمارت استوار ہوتی ہے اور اس میں ضعف پیدا ہونے سے اسلام کی ساری عمارت سرے سے ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ پس اگر اس عقیدہ میں کسی قسم کا ادنیٰ سا بھی ضعف یا آمیزش آ جائے تو کوئی بھی عمل عنداللہ قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچتا۔لہٰذااسی نکتہ کی اہمیت و ضرورت اور کامل معرفت حضرت انسان کے لیے از حد ضروری ہےلہٰذا توحید کو اس کے تمام تر تقاضوں کے تحت بیان کرنے کا سب سے اول ذریعہ قرآن پاک ہے چونکہ یہ اللہ کا مبارک کلام ہے اور قرآن میں مذکور مرادات الٰہیہ کو سمجھنے کے لیے گہرے فہم اورکامل بصیرت کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں موجود انہی ابحاث توحید کو مختلف اہل علم اور مفسرین حضرات نے اپنی اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق اخذ کیا اور عوام الناس تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیا۔زیر نظر مقالہ میں بھی مقالہ نگار کے پیش نظر علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ صاحبِ تبیان الفرقان(مولانا غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ نے تفسیر تبیان الفرقان تصنیف کرنے سے قبل تفسیر تبیان القرآن بھی تصنیف کی ہے جو کہ نہایت ضخیم کتاب تھی۔ جسے مصنف رحمہ اللہ نے اختصار کے پیش نظر بعد میں تفسیر تبیان الفرقان کے نام سے تصنیف کیا ہے اور تفسیر تبیان الفرقان کی چار جلدیں ہی شائع ہو سکیں کہ اس کے مصنف دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے ان چار جلدوں میں پہلے بیس پاروں کی تفسیر ہے لہٰذا ہمارے زیرِنظر موضوع میں تفسیر تبیان الفرقان ہے۔)اورمولانا حسین علی الوانی رحمہ اللہ صاحب ِجواہر القرآن کی تفاسیر میں موجود مباحت توحید کا تقابلی جائزہ پیش کرنا ہے تاکہ ان دونوں علمائے کرام کے علمی نکات سے استفادہ کیا جا سکے۔ ابواب بندی: اسی وجہ سے زیر نظر مقالہ میں ابواب و فصول بندی کی تفصیل کچھ یوں ہو گی کہ اس میں تین ابواب قائم کیے گئے ہیں: