کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 407
بہترین مصنف اور صحافی، نیز تجربہ کار طبیب تھے۔ مقامِ رسالت، انوار الحدیث، سیرتِ سیدنا حسین، سیرتِ خدیجہ الکبریٰ، اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مسئلہ تقلید کے مصنف ہیں۔ ان کے دادا جان مولانا عبدالمجید رحمہ اللہ نے ’’اہلِ حدیث‘‘ امرتسر کی یاد میں سوہدرہ سے ’’اہلِ حدیث‘‘ جاری کیا جو مسلکِ اہلِ حدیث کا ترجمان اور کامیاب دینی پرچہ تھا۔ مولانا کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ مولانا فاروقی نے ماہنامہ ’’ضیائے حدیث‘‘ کا اجرا کر کے اس کی یاد تازہ کر دی۔ جو اٹھارہ انیس سال سے باقاعدہ شائع ہو رہا ہے۔ تجلیاتِ قرآن، انوارِ حدیث، عقائد، احکام و مسائل، گوشۂ خواتین، فکر و نظر جیسے مستقل عنوانات کے علاوہ دیگر عالمی و ملکی مسائل، سیاسی تجزیے، اصلاحِ احوال، تزکیۂ نفس، طب و صحت جیسے موضوعات سے یہ ماہنامہ مزین ہوتا ہے۔ تجلیاتِ قرآن کا کالم وہ خود باقاعدگی سے لکھتے تھے۔ کچھ ماہ سے حمد و نعت کے لیے ایک صفحہ مقرر کر دیا جو ایک بہترین اضافہ ہے، جسے جاری رہنا چاہیے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ ضیائے حدیث کے دفتر میں اپنی کتاب ’’مقامِ رسالت‘‘ کے جدید اڈیشن کے پروف دیکھ رہے تھے کہ بلاوا آگیا۔ یہ ان کے حسنِ خاتمہ کی ایک دلیل ہے کہ آخری سانسوں اور نگاہوں میں ’’مقامِ رسالت‘‘ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسی نسبت سے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت عطا فرمائے اور ان کے صاحبزادہ مولانا محمد نعمان فاروقی صاحب کو ان کے مشن کی آبیاری کے لیے ان کا صحیح خلف اور جانشین بنائے۔ آمین