کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 406
نے کمال شفقت سے اس کا حل واپسی خط لکھ کر سمجھا دیا۔ فاروقی صاحب نے جب ان کے سامنے میرا نام لیا تو وہ فوراً پہچان گئے اور فرمایا: اچھا تم ہو جس نے خط لکھا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا مرحوم نے ہمیں فانٹا کی بوتلیں پلائیں، بلکہ میں نے تو پہلی بار فانٹا کی بوتل انہی کے دستِ مبارک سے پی۔ وہاں سے ہم رنگ محل چینیاں والی مسجد میں گئے، مولانا محمد اسحاق رحمانی وہاں شیخ الحدیث تھے۔ ان سے میری یہ پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ خوب صورت سرخی مائل رنگ اور بڑے مضبوط جسم و جان کے مالک تھے۔ بڑی شستہ گفتگو اور ایسے سلیقے سے بولتے کہ بات دل میں اتر جاتی تھی۔ ان کی زیارت کے بعد ہم شرق پور فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ عصر کی نماز ان کے ہاں پڑھی۔ ان کی میٹھی میٹھی ہلکی پھلکی باتیں دل میں اپنا اثر دکھا رہی تھیں۔ ان سے بھی میری یہ پہلی ملاقات تھی جس کا نقش ہمیشہ دل پر قائم رہا۔ شام سے قریب وہاں سے واپسی لاہور اور لاہور سے رات جامعہ میں پہنچ گئے۔ مولانا فاروقی کی یہ چند یادیں اس وقت فوراً لوحِ حفظ پر آئیں، جب ان کی وفات کی اطلاع مجھے محترم حافظ عبدالعظیم صاحب کے ذریعے نمازِ عصر کے بعد ملی۔ میں نے اسی وقت ان سے فون پر اظہارِ تعزیت کیا اور بعد مکانی کی وجہ سے جنازے میں شرکت سے محروم رہا۔ اللہ تعالیٰ میرے پیارے فاروقی بھائی کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر پر اپنے انوار کی بارش برسائے، ان کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل بخشے اور ان کے جاری شدہ مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین فاروقی صاحب اپنی خاندانی روایات کے مطابق ایک پختہ عالم، کامیاب خطیب،