کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 405
پاک زمین کو سجدہ گاہ بنا لینے کی اجازت دی ہے، جب کہ دیگر مذاہب میں ان کے معبد خانے سے باہر عبادت کا تصور نہیں۔ دیگر مذاہب میں پاک اور صاف جوتے پہن کر عبادت کا تصور نہیں۔ اسلام میں یہ سختی بھی نہیں۔ وہ مسجد میں بھی پاک صاف جوتے پہن کر عبادت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام دین یسر ہے، دیگر مذاہب میں اس قسم کا رکھ رکھاؤ محض اپنے ماننے والوں کے دلوں میں رعب و دبدبہ جمانے کی ایک ترکیب ہے۔ خیر ہم وہاں سے پلٹے تو مولانا فاروقی فرمانے لگے: سردار صاحب سے بات کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ہم سب ان کے ہمراہ اس سکھ سردار کے ہاں چلے گئے۔ اس نے بڑے احترام سے ہمیں بٹھایا۔ گوردوارے کے حوالے سے کچھ معلومات حاصل کیں۔ اسی اثنا میں فاروقی صاحب نے فرمایا: سردار جی آپ بڑے خوش خلق ہیں۔ سردار جی نے آٹھ دس منٹ لگا کر بڑی لمبی گفتگو کی اور اپنے گرو کی پریشانیوں اور ان کے خلاف حکمرانوں کی زیادتیوں کا ذکر کر کے بالآخر کہا۔ اس لیے ’’ہم خشک‘‘ ہوتے ہیں۔ فاروقی صاحب نے کہا: بابا جی: میں نے تو کہا کہ آپ بڑے خوش خلق ہیں۔ وہ کھسیانہ ہو کر بولا: میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ تم خشک کیوں ہوتے ہو؟ ہم جلدی سے اٹھے بڑی مشکل سے ہنسی پر کنٹرول کیا، باہر نکلے تو لوٹ پوٹ ہو گئے، ادھر دن کے بارہ بج رہے تھے۔ محترم فاروقی صاحب کے ہمراہ اسی الجامعۃ السلفیہ کے دور میں ایک یادگار سفر لاہور کا بھی تھا۔ میں ان کے ہمراہ تھا۔ ہم دونوں پہلے حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف۔نور اللّٰه مرقدہ۔ کی خدمتِ اقدس میں مکتبہ سلفیہ حاضر ہوئے۔ فاروقی صاحب تو اپنے خاندانی تعارف کی بنا پر ان کے جانے پہچانے تھے۔ مولانا مرحوم ایک بار جامعہ میں تشریف لائے تو اس ناکارہ کو بھی ان کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔ تحفۃ الاحوذی کی ایک عبارت کے حوالے سے ان کی خدمت میں عریضہ لکھا تو انھوں