کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 404
خوبیوں کا تذکرہ ایسے سلیقے سے کیا کہ کئی دن تک ساتھی انھیں یاد کرتے رہے۔ الجامعۃ السلفیہ میں تعلیم کے دوران ہمارے ایک ساتھی مولانا عزیز صاحب تھے جو نبی پور پیراں کے رہنے والے تھے۔ دورانِ تعلیم ہی وہ شادی کے بندھن میں بندھے تو انھوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کو مدعو کیا۔ مولانا فاروقی مرحوم کی قیادت میں ہم وہاں پہنچے، رات کو جلسہ کیا، ولیمہ میں شریک ہوئے۔ مولانا عبدالعزیز راشد ان دنوں جامع مسجد اہلِ حدیث ننکانہ کے خطیب تھے۔ ان سے پہلی بار وہیں نبی پور پیراں میں تعارف ہوا۔ اب تو وہ شہبازِ خطابت کا لقب پا چکے ہیں۔ رات کو انھوں نے بھی خطاب کیا اور اپنے خطابت کے خوب خوب جوہر دکھائے۔ صبح واپسی پر ہم نے چاہا کہ اتفاق سے ننکانہ آئے ہیں، یہاں بابا گورونانک کا گوردوارہ ہے، اسے دیکھتے چلیں۔ چنانچہ ہم گوردوارہ پہنچے۔ اندر جانے لگے تو ایک طرف بیٹھے ایک سکھ سردار نے کہا: مولوی جی جوتے اتار کر اندر جائیں۔ ہم نے جوتے اتارے، ہاتھوں میں انھیں تھامے ہوئے ایک دو قدم آگے بڑھے تھے کہ سردار جی نے پھر آواز دی: مولوی جی ایہہ مسجد نہیں، گوردوارہ ہے، جوتے باہر رکھیں، ہم نے یہاں بھی سردار جی کی تابع داری میں جوتے وہیں دروازے پر رکھے اور آگے چلنے لگے تو سردار جی نے پھر پکارا: مولوی جی ایہہ گوردوارہ ہے مسجد نہیں، پاؤں دھو کر اندر جائیں۔ دروازے کے پاس ہی چھوٹا سا پانی کا حوض تھا، ہم نے پاؤں اس میں ’’گیلے‘‘ کیے اور گوردوارہ خوب گھوم پھر کر دیکھا۔ ہم حیران تھے کہ اس سکھ سردار نے کتنی دلیری سے مسجد اور گوردوارہ کا تقابل کیا اور طنزیہ طور پر ہمارے سامنے گوردوارے کی بڑائی کا ذکر کیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ اس بیچارے کو اسلام کی ساری اور فطری تعلیمات سے ناآشنائی ہے، اسے کیا معلوم کہ اسلام نے تو ہر