کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 403
اسی سال کے دوران میں مجھے ان کی ملاقات کے لیے سوہدرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ان کے والدِ گرامی حضرت مولانا حافظ محمد یوسف کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ حافظ صاحب کے مطب ہی پر ملاقات ہوئی، انتہائی منکسر المزاج، حلیم الطبع، ذاکر و شاکر اور کم گو بزرگ تھے۔ بڑی محبت اور شفقت سے ملے۔ مسجد کے قریب حضرت مولانا عبدالمجید سوہدروی رحمہ اللہ جو مولانا فاروقی مرحوم کے دادا جان تھے اور ایک کامیاب خطیب ایک عظیم طبیب اور مصنف تھے، کے مکتبہ کی زیارت کا اتفاق بھی ہوا۔ مکتبہ ہی میں مولانا مرحوم کی شیروانی اور رومی ٹوپی ان کی یاد دلا رہی تھی۔ عصر کی نماز کے بعد مولانا فاروقی مرحوم اپنی زمین کی سیر کے لیے لے گئے۔ راستے میں ایک جگہ پرانی کھجوروں کے آثار آئے تو انھوں نے بتلایا کہ دادا جان کے پاس ایک بار حضرت مولانا قاضی سلیمان رحمہ اللہ منصور پوری تشریف لائے اور دادا جان انھیں لے کر چہل قدمی کے لیے جب یہاں سے گزرے تو قاضی صاحب یہاں رک گئے اور ان کھجوروں کو غور سے دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے دادا جی سے فرمایا: معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس نام کا کوئی رئیس یا راجہ تھا، اسی کے نام کی ترتیب پر یہ کھجوریں لگائی گئی تھیں۔ اللہ اکبر سوہدرہ اس کے بعد بھی جانے کا اتفاق ہوا، بلکہ ایک مرتبہ وہاں خطبہ جمعہ بھی دیا۔ اس کے بعد مولانا فاروقی کوئٹہ تشریف لے گئے۔ وہاں مسجد غزنویہ کے نام کی قدیم مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یوں سوہدرہ کا رخ منقطع ہو گیا۔ ایک بار غالباً ۱۹۸۱، ۱۹۸۲ء میں اچانک میرے پاس تشریف لائے، میں ان دنوں جامع مسجد محمدی اہلِ حدیث غلہ منڈی خالد آباد میں تھا۔ اپنے بڑے پن کی بنا پر گرم کپڑے کا تحفہ دیا۔ جمعہ کا دن تھا، میرے اصرار پر انھوں نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جس میں اسلام کی