کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 402
مولانا محمد مدنی جہلمی مرحوم، مولانا محمد اکرم جمیل شیخ الحدیث الجامعۃ الاثریہ بھی ہوتے۔ چائے کا دور چلتا اور ہلکی پھلکی باتوں کے بعد ہم اپنے اپنے کمرے کی راہ لیتے۔ سرخ و سفید چہرہ، خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں، ان پر چشمہ، سیاہ گھنی ڈاڑھی، میانہ قد، سفید لباس، چال ڈھال میں متانت و وقار، گفتگو میں پختگی اور سنجیدگی۔ یہ تھے میرے دوست مولانا فاروقی، نور اللّٰه مرقدہ۔ ۱۹۶۶ء کے بعد وہ الجامعۃ الاسلامیہ گوجرانوالہ میں تکمیل کے لیے پہنچے، شیخ الشیوخ حضرت مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی اور حضرت الاستاذ مولانا ابو البرکات احمد۔رحمھما اللّٰه ونور قبورھما۔ سے بھرپور استفادہ کیا۔ اور یہ ناکارہ، مولانا اکرم جمیل صاحب کی رفاقت میں حضرت مولانا حافظ محمد بنیامین صاحب ۔برد اللہ مضجعہ۔ کے ہاں جھوک دادو کے قریبی گاؤں کٹو میں حاضر ہوا۔ ہم وہاں تقریباً چھے سات ساتھی تھے اور محترم حافظ صاحب تھے، سال بھر ان کی خدمت میں رہے۔ سال کے اختتام پر حافظ صاحب کے ایما پر الجامعۃ الاسلامیۃ میں حضرت محدث گوندلوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کا پروگرام بنایا تو میں نے مولانا فاروقی صاحب کو خط لکھا کہ آپ اگر ساتھ دیں تو میرا داخلہ الجامعۃ الاسلامیہ میں آسانی سے ہو جائے گا۔ یہ اسی سال رمضان المبارک کے ایام کی باتیں ہیں۔ انھوں نے واپسی تاریخ اور دن کی تعیین سے مجھے الجامعہ میں حاضر ہو جانے کا خط لکھا۔ میں حسبِ پروگرام وہاں پہنچا تو وہ وہاں مجھ سے پہلے پہنچ چکے تھے اور میرے منتظر تھے۔ مجھے ساتھ لے کر حضرت مولانا ابو البرکات احمد کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرا تعارف کروایا اور داخلے کے لیے ان سے سفارش کی۔ یوں ان کے تعاون سے میرا داخلہ ہو گیا۔