کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 400
رونق دراصل اللہ تعالیٰ کے گھر سے ’’بیٹری چارج‘‘ ہو جانے کا نتیجہ ہے۔
وہ روزانہ گوجرانوالہ سے تشریف لاتے اور عصر کے بعد واپس چلے جاتے۔ کئی بار احباب نے لاہور منتقل ہو جانے کا اصرار کیا کہ یوں وقت بچے گا اور سفر کی صعوبت سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ مگر والدہ مرحومہ کی خدمت اور گھریلو معاملات کی بنا پر وہ ایسا نہ کر پائے۔ حال ہی میں دوبارہ اس سلسلے میں کچھ احباب نے پھر کوشش کی۔ سانحۂ ارتحال سے دو چار روز پہلے لاہور رہائش کے لیے مکان دیکھنے کے لیے مع اہلیہ تشریف لائے، مکان پسند آگیا، لاہور منتقل ہو جانے کا ارادہ بھی بنا لیا۔ مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی احکم الحاکمین نے اپنے نعیم کے بارے میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ یہ لاہور نہیں اب میری ’’جنت النعیم‘‘ میں رہے۔ أنا عند ظن عبدي بي۔
یہ سرائے دہر مسافرو بخدا کسی کا مکاں نہیں
جو مقیم تھے کل یہاں کہیں، آج ان کا نشاں نہیں
حضرت قاری صاحب ہم سے رخصت ہوئے۔ ان کی جدائی کا صدمہ اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ دار الدعوۃ السلفیہ کے رفقائے کار، بالخصوص اس کے مدیر و منتظم حافظ احمد شاکر حفظہ اللہ کو، بلکہ پوری جماعت کو ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قاری صاحب کی حسنات و خدمات کو قبول و منظور فرمائے۔ سبھی پسماندگان کو صبرِ جمیل بخشے۔ اور دار الدعوۃ السلفیہ کو۔ ان کی اور ان کے بانی … کی آرزوؤں کو پورا کرنے والا اور اس کی روشنی کو مدہم نہ پڑنے والا نعم البدل رفیق عطا فرمائے۔
ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد