کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 399
پاکیزگی و لطافت اور اتباعِ سنت کے جس بلند ترین مرتبے پر فائز تھے اکثر حضرات اس سے بے خبر رہے۔ اور صحیح معنوں میں ان سے کسبِ فیض حاصل نہ کر سکے۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت کے لیے انھوں نے تین طریقے تجویز کیے: 1. مصاحبت و مجالست۔ 2. ذکر و یاد۔ 3 .فکر و مراقبہ۔ جس کی تفصیل ان کے رسالہ ’’تربیت و اصلاح کے چند اصول، قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ دیکھی جا سکتی ہے۔ فرمایا کرتے: ہمیں حکم تو قیام اللیل کا دیا گیا ہے مگر عمل جلوس اللیل پر کرتے ہیں۔ اسی بارے میں انھوں نے ایک نظم میں فرمایا:
… بیٹھے نظر آتے ہیں سب لوگ کوئی شب کو جدھر بھی دیکھتا ہے
’’جلوس اللیل‘‘ کا غلبہ ہے گویا ’’قیام اللیل‘‘ چھٹتا جا رہا ہے
محترم مولانا حافظ احمد شاکر صاحب ۔زادہ اللّٰه عزاً وشرفاً۔ نے بتلایا کہ قاری صاحب کی طرح ان کی اہلیہ محترمہ بھی قرآن پاک کی حافظہ اور درسِ نظامی کی فارغ التحصیل ہیں، بلکہ لطف یہ کہ ان کی یہ سعادتِ حفظِ قرآن عقدِ نکاح کے بعد حاصل ہوئی، اللہ اکبر۔ شاید یہ اس نوعیت کی واحد مثال ہو۔ ورنہ عموماً شادی بیاہ کے بعد خانگی حالات میں ہماری بہنیں ایسی الجھ کر رہ جاتی ہیں کہ پہلے سے یاد شدہ اوراد و وظائف بھی بھلا بیٹھتی ہیں۔ جس سے قارئین کرام مرحوم قاری صاحب کی خانگی زندگی کی پاکیزگی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
قاری صاحب کی صحت کوئی قابلِ رشک نہ تھی، نزلہ و زکام کا اکثر عارضہ رہتا۔ والدہ محترمہ اور پھر اہلیہ کی بیماری اس پر مستزاد تھی۔ مگر مجال کہ کبھی حرفِ شکایت ان کی زبان پر آیا ہو۔ وہ ہر حال میں شاکر و صابر رہتے۔ چند سال ہوئے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے گھر کی زیارت کا شرف عطا فرمایا تو واپسی پر ان کی صحت پہلے سے بہتر محسوس ہوئی، چہرے پر بشاشت آ گئی۔ حافظ احمد صاحب فرمانے لگے: یہ بشاشت اور