کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 397
اس میں تشکیک و حیرانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کچھ عرصے کے لیے مرحوم قاری صاحب جامعہ رحمانیہ میں تدریس کے لیے تشریف لے گئے۔ جامعہ رحمانیہ ان دنوں ہنجر وال میں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ مجھے وہاں حاضری کا موقع ملا تو وہاں بھی ان کی ملاقات سے مشرف ہوا۔ مولانا حافظ عبدالرشید صاحب اظہر اور مولانا عبدالحی انصاری صاحب بھی ان دنوں جامعہ رحمانیہ میں مدرس تھے۔ کچھ عرصے بعد مولانا بھوجیانی رحمہ اللہ نے اپنی علالت کے باعث قاری صاحب کو دار الدعوۃ السلفیہ بلا لیا۔ اور انھوں نے بھی بلاتامل اپنی خدمات اس ادارہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں اور دمِ آخریں تک اس عہدِ وفا کو بڑی خوش اسلوبی سے پورا کیا۔ اس دوران میں مختلف جہات و اطراف سے ترغیب و تحریص سے مزین بڑی بڑی پیشکشیں ہوئیں مگر ان کے پائے استقلال میں جنبش تک نہ آئی۔
قارئین الاعتصام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی نگارشات میں تحکم کے بجائے متکلمانہ و مناظرانہ انداز سے ہٹ کر مصلحانہ و ناصحانہ پہلو غالب تھا۔ تمام مسائل پر بحث خواہ ان کا تعلق معاشی و سیاسی ہو یا اخلاقی و تمدنی، سلفی منہج کے ترازو پر تول کر کرتے۔ انھوں نے اپنے افکار کا اظہار نثر میں اور نظم دونوں میں کیا۔ شعر و سخن کے شناور خوب جانتے ہیں کہ وہ اس میں کامیاب رہے۔ قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ وہ عملی جہاد کے بھی داعی رہے۔ امتِ مسلمہ کی فلاح و فوز کے لیے وہ بے تاب رہتے۔ ایک عرصہ پہلے اسلامی ریاست ’’نورستان‘‘ کے مجلہ ’’تحریکِ خلافت‘‘ کے بھی وہ مدیر رہے۔ امام عبداللہ بن مبارک کے معروف مکتوب، جو انھوں نے میدانِ جہاد سے امام فضیل بن عیاض کو لکھا تھا، کا منظوم ترجمہ کیا۔ ’’مسئلہ کشمیر کا حل‘‘ کے عنوان سے انھوں نے کس خوب صورتی سے لکھا:
دل میں زندہ جذبۂ ایمان ہونا چاہیے
یعنی پھر تقسیمِ ہندوستان ہونا چاہیے