کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 396
نہایت غمگین و حزین لہجے میں فرمایا: کیا آپ کو پتا چل گیا ہے؟ ان کے اس سوال سے دل دہل گیا اور دریافت کیا: کس بات کا، مجھے تو کسی نئی بات کی کوئی خبر نہیں۔ فرمانے لگے: قاری نعیم الحق صاحب چل بسے ۔إنا للّٰه وإنا إلیہ راجعون۔ جس کی انھوں نے حسبِ معلومات کچھ تفصیل بھی بتلائی۔ میں نے جنازہ کا پوچھا تو فرمایا کہ وہ کل شام کو ہو چکا۔ یک نہ شد دو شد، گویا: مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے میرے فاضل بھائی مولانا محمد خالد سیف ۔حفظہ اللّٰه وکثر اللّٰه أمثالہ۔ بھی پاس ہی تشریف فرما تھے، وہ بھی مجسمۂ حزن و غم بن کر رہ گئے اور ہم دیر تک إنا للہ وإنا إلیہ راجعون پڑھتے رہے۔ اتفاق کی بات دیکھیے کہ ایک ہی شب پہلے مولانا سیف صاحب کے ہاں دار الدعوۃ السلفیہ الاعتصام اور اس کے بانی حضرت شیخ الاستاذ المحدث مولانا محمد عطاء اللہ حنیف ۔نور اللّٰه مرقدہ۔ کے حوالے سے ہم دونوں بہت سی یادیں دہرا رہے تھے کہ مرحوم قاری صاحب کا ذکرِ خیر بھی ہونے لگا۔ حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب کی علالت میں محترم مولانا حافظ محمد صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اور ان کے ساتھ اور پھر ان کے بعد مرحوم قاری صاحب نے اس ذمہ داری کو ایسے حسن و خوبی سے نبھایا کہ کسی اعتبار سے بھی الاعتصام میں کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ تقبل اللّٰه سعیہ۔ مرحوم حضرت قاری صاحب سے میرا سب سے پہلے تعارف تب ہوا جب وہ ’’تنقیح الرواۃ‘‘ کی تصحیح اور نقل کے لیے حضرت مولانا عطاء اللہ رحمہ اللہ کی دعوت پر دار الدعوۃ السلفیہ تشریف لائے۔ ابھی ان کے چہرے پر خط کے آثار تھے۔ مولانا مرحوم نے میرا ان سے تعارف کرایا تو میں حیران و ششدر رہ گیا کہ ایسے مشکل ترین کام کے لیے ایسے نوآموز سے یہ خدمت! معاً دل نے جواب دیا کہ حضرت مولانا نے یہ انتخاب کیا ہے تو