کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 318
عبدالجبار عمر پوری، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا عبدالسلام مبارک پوری رحمہم اللہ نے بھی پوری آواز سے اس کا اعلان کیا۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ان کے اتباع و احفاد یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہیں۔ لیکن خاموشی پر مجبور ہیں۔ إنا للّٰه وإنا إلیہ راجعون ‘‘[1] مولانا سلفی مرحوم کا مولانا حسن رحمہ اللہ پر شکوہ بجا مگر اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ مولانا حسن رحمہ اللہ کے علم و فہم کے معترف تھے۔ بلکہ ان کے آبا و اجداد کی خدمتِ حدیث کے حوالے سے بھی انھیں اعتراف تھا۔[2] مگر یہ حقیقت ہے کہ مولانا حسن رحمہ اللہ نے یہ ’’فرضِ کفایہ‘‘ ادا کیا جب وہ جماعت اسلامی کی ذمے داریوں سے سبک دوش ہوئے ایک عرصہ بیت گیا۔ چنانچہ ’’عظمتِ حدیث‘‘ کے نام سے ان کی کتاب ۱۹۸۹ء میں مولانا محمد بشیر سیالکوٹی بابائے عربی نے اپنے مکتبہ دار العلم اسلام آباد سے شائع کی۔ گو مولانا مرحوم، مولانا مودودی کے سلکِ اعتدال کے ہم عصر سے ناقد رہے اور جماعت اسلامی کے حلقوں میں اس کے بارے میں اظہار اختلاف فرماتے تھے۔
[1] ’’حجیتِ حدیث‘‘ (ص: ۱۵۷). [2] یہ اعتراف کیوں نہ ہو، جب کہ حضرت مولانا سلفی مرحوم مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ کے والد گرامی مولانا حافظ عبد الستار عمر پوری کے تلمیذِ رشید تھے اور ان سے تفسیر ابن کثیر درساً درساً پڑھی تھی۔ حافظ عبد الستار صاحب نے ۱۹۱۶ء میں ۳۴ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ ضبط و حفظ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید تین ماہ میں حفظ کیا۔ حسنِ اتفاق کہ ان کے والد گرامی یعنی مولانا عبد الغفار صاحب کے جدِ امجد مولانا عبد الجبار عمر پوری بھی اسی سال یعنی ماہِ شوال ۱۳۳۴ھ بمطابق ۱۹۱۶ء میں فوت ہوئے۔ مولانا مرحوم کو حضرت شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ انھوں نے ’’ضیاء السنۃ‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جس میں منکرینِ حدیث بالخصوص عبداللہ چکڑالوی کے افکار و نظریات کی تردید ہوتی تھی۔ اس رسالے میں شارح الجامع الترمذی محدث مبارکپوری مولانا عبدالسلام مبارک پوری، مولانا ابو یحییٰ محمد شاہ جہاں پوری وغیرہ جیسے اعیان و اکابر کے مقالات شائع ہوا کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’عظمتِ حدیث‘‘ مولفہ مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ ۔ ان کے لائق ترین فرزندِ ارجمند حضرت مولانا صہیب حسن اور مولانا سہیل حسن کے اپنے والد گرامی کی حیات و خدمات پر مفصل سوانح عمری شائع کروائی ہے جو بے حد مفید معلومات پر مشتمل ہے۔