کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 265
ادویات استعمال کیں، مگر صحت سنبھل نہ سکی۔ اس دوران ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ دیکھ کر خود پریشان ہوئے۔ ان کے رس بھرے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں کہ ’’میں تمھیں صحت مند و توانا دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ اسی کے ساتھ فرمایا کہ اتوار، سوموار کے روز میرے پاس اشرف لیبارٹری میں آنا۔ میں طبی بورڈ سے تمھارے بارے میں مشورہ کروں گا۔ چنانچہ میں حسبِ حکم ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ مجھے مرحوم حکیم محمد عبداللہ نصر[1] کے پاس لے گئے اور ان سے فرمایا حکیم صاحب اس نوجوان پر کچھ امیدیں وابستہ ہیں، مگر یہ بیمار ہے اسے ذرا غور سے دیکھیں اور علاج بھی تجویز کریں۔ انھوں نے برجستہ فرمایا: بالکل ٹھیک، مگر شرط یہ کہ دوائی آپ وہ دیں جو میں خود تجویز کروں آپ اس میں کوئی رد و بدل نہ کریں۔ مولانا مرحوم نے فرمایا: آپ جو دوائی تجویز کریں وہ خواہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو میں اسے دینے سے گریز نہیں کروں گا۔ چنانچہ حکیم صاحب نے اس ناکارہ کو بغور چیک کرنے کے بعد نبض متعین کی۔ مرض کی تعیین کے ساتھ ساتھ دوائی بھی تجویز فرمائی، جو غالباً فولاد و مشک کا مرکب تھا۔ یوں اس دوائی سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صحت بہت حد تک درست فرما دی۔ والحمد للّٰه علی ذلک
[1] یادش بخیر: حکیم محمد عبداللہ نصر مرحوم کا تعلق سوہدرہ وزیر آباد سے تھا۔ سخت گرمیوں کا مہینہ غالباً جون کا تھا اور میں مکتبہ سلفیہ لاہور میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک حکیم صاحب موصوف تشریف لائے۔ برادر محترم حافظ احمد شاکر حفظہ اللہ نے بڑی محبت اور بے تکلفی سے عرض کی: حضرت کیا نوشِ جان فرمائیں گے۔ حکیم صاحب نے فرمایا: آپ میری حسبِ منشا چیز لا کر نہیں دیں گے اور شاید وہ یہاں آسانی سے دستیاب بھی نہ ہو سکے۔ حافظ صاحب کہنے لگے ہم لاہور میں ہیں، یہاں کون سی چیز ہے جو مل نہ سکے۔ حکیم صاحب فرمانے لگے: مجھے میری مرضی سے کچھ پلانا ہے تو شکر کا سادہ شربت پلا دیجیے۔ چنانچہ حافظ صاحب نے شکر منگوا کر شربت بنوایا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔ حکیم صاحب نے اسے پیا اور اس کے فوائد بتانے لگے اور ساتھ ہی سیون اپ، کوک وغیرہ کی سخت مذمت کی کہ یہ صحت کی دشمن ہیں، پھر دیر تک اپنی زندگی کے واقعات سناتے رہے اور بالآخر اپنے رفقا و معاصرین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میری مثال تو اس لڑکی کی طرح ہے جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھیلتی تھی۔ اس کی شادی دور دراز علاقہ میں ہوئی تو عرصہ بعد والدین کے گھر واپس آئی۔ وہ اس درخت کے پاس پہنچی تو اسے مخاطب کر کے سہیلیوں کے بارے میں سوال کیا تو اس نے زبانِ حال میں جواب دیا: ٹالیئے مٹالیئے نی دس کتھے گئیاں اوہ سئیاں کجھ پیکے کجھ سوہرے کجھ خاکیں رل مل گئیاں یہ شعر پڑھا سرد آہ بھری اور دیر تک افسردگی کے عالم میں بیٹھے رہے۔.