کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 222
کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق شاملِ حال ہو تو رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں۔ صحت بھی اور انجام کار تک تمام وسائل پورے ہو جاتے ہیں۔ ذوقِ تاریخ و رجال: پہلے عرض کر آیا ہوں کہ اس ناکارہ کی حضرت مولانا رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات کا باعث ’’رجال‘‘ ہی کا ایک مسئلہ تھا۔ اسی لیے مناسب سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں اُن کی معلومات اور ان کے حسنِ ذوق کا تذکرہ کروں، مگر اس سے پہلے اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ ہیچمداں کو جو معمولی تعلق اس فن سے ہے، اس میں بھی بہت حد تک آپ کی راہنمائی کو دخل ہے۔ چنانچہ آپ ہی کے مشورے سے میزان الاعتدال، لسان المیزان اور تہذیب التہذیب پڑھیں، ان کو پڑھنے کے بعد ایسا ’’چسکا‘‘ لگا کہ اس موضوع کی بیشتر کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ان کے علاوہ انہی ہی کی ترغیب سے الکفایہ للخطیب، معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، فتح المغیث للعراقی، توضیع الأفکار للأمیر، تدریب الراوي للسیوطي جیسی اہم کتابیں بھی پڑھیں۔ ایک بار حاضر ہوا تو آپ نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ’’النکت‘‘ کا تذکرہ کیا کہ پیر جھنڈا سے اس کا نسخہ نقل ہو کر آیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ توضیح الافکار اور تدریب الراوی کے مطالعے کے دوران میں ہو چکا تھا، جن میں ان کے مصنفین ’’قال شیخ الإسلام‘‘ کہہ کر مسلسل عبارتیں نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں ’’النکت‘‘ کا نام سن کر پھڑک اٹھا[1] اور دریافت کیا کہ وہ نسخہ کس کے
[1] یہ ۱۹۷۰ء کی بات ہے، جب اس کتاب کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی تھیں، مگر اب یہ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر دو جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اور یہ صرف بائیس (۲۲) انواع پر مشتمل ہے۔ النکت کے محقق دکتور ربیع ہادی حفظہ اللہ کے پیش نگاہ اس کے پانچ نسخے ہیں، ان میں ایک ناقص اور باقی چار نسخے بھی ۲۲ انواع ہی پر مشتمل ہیں، بلکہ علامہ السخاوی اور علامہ سیوطی نے صراحت کی ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اسے مکمل نہیں کر سکے اور فضیلۃ الدکتور حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ولا ندري إلی أي حد وصل‘‘ (مقدمۃ النکت: ۱/۱۹۷) ’’ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کس نوع تک لکھی گئی۔‘‘ مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی حسبِ ذیل عبارت سے مفہوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسے تقریباً مکمل کر دیا تھا، چنانچہ لکھتے ہیں: ’’وأما من یقال لہ الخلیل بن أحمد غیر ھذین وھما العروضی والمزني ومن قرب من عصرھما لوصح فجماعۃ تزید عدتھم علی العشرۃ قد ذکرتھم فیما کتبتہ علی علوم الحدیث لابن الصلاح سبقني شیخنا في النکت إلی نصفھم واللہ المستعان‘‘ (تہذیب التہذیب ۳/۱۶۶) علوم الحدیث لابن الصلاح (ص: ۳۲۴۔۳۲۵) میں یہ بحث ’’النوع الرابع والخمسون: معرفۃ المتفق والمفترق‘‘ کے تحت ہے اور علوم الحدیث کی کل ۶۵ انواع ہیں۔ النکت مکمل نہ بھی ہو، تاہم درج بالا عبارت سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کم از کم اسے ۵۴ انواع تک مکمل کر لیا تھا۔ واللہ تعالیٰ أعلم.