کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 219
آپ، حضرت الاستاذ کے علم و فضل، بالخصوص علمِ حدیث و رجال میں ان کی وسعتِ معلومات کے معترف ہی نہیں، مداح تھے اور بسا اوقات احادیث کی تتبع و تلاش کے لیے ان کی طرف رجوع بھی کرتے۔ رحمھما اللّٰه رحمۃ واسعۃ صبر و استقلال: مسلسل بیس اکیس سال حضرت مولانا سے تعلقِ خاطر رہا، اس طویل عرصے میں آپ کو جلوت میں بھی دیکھا اور خلوت میں بھی، سفر و حضر میں بھی۔ فیصل آباد جب بھی تشریف لاتے، اس ناکارہ کو ہمیشہ یاد رکھتے، بلکہ دو بار گھر تشریف لائے اور رات کا قیام بھی فرمایا۔[1] علم و فضل کے ساتھ ساتھ جو اوصاف آپ میں نظر آئے، اُن میں سے ایک نمایاں وصف آپ کا صبر و استقلال تھا۔ ساری زندگی فقیرانہ انداز
[1] فیصل آباد میں یوں تو بہت سے حضرات کو آپ سے عقیدت و پیار تھا، مگر ان میں سے مولوی خوشی محمد صاحب رحمہ اللہ کا تعلق تو وارفتگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا، وہ آج بھی جب کبھی ان کا تذکرہ کرتے ہیں، آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور کوٹ کپورہ ضلع فیروز پور میں مولانا مرحوم کی مساعی کا ذکر جھوم جھوم کر کرتے ہیں۔ انہی کا بیان ہے کہ مولانا مرحوم کی عمر ۲۲۔۲۳ سال ہو گی، جب ہمارے شہر کوٹ کپورہ میں تشریف لائے۔ سادگی کا یہ عالم تھا کہ لوگ دیکھ کر کہتے کہ یہ بھی کوئی عالم ہو سکتے ہیں۔ چند ہی دنوں میں آپ کے علم و فضل کا نقش تمام کے دلوں پر منقش ہو گیا۔ بڑے آپ سے بھائی اور بزرگ اپنے بیٹے کی طرح آپ سے پیار کرتے۔ ان کی تعلیم و تربیت ہی کا اثر تھا کہ ان کے تشریف لانے کے بعد جب پہلی بار ہندوؤں کی رسم دیوالی آئی تو تمام مسلمان نوجوانوں کو اس ہندوانہ رسم سے روکا اور جو بڑی دھوم سے ’’مشعلیں‘‘ جلا کر اس میں شریک ہوئے، ان سے مشعلیں چھین لی گئیں تو ان لاٹھیوں اور لکڑیوں کا وزن تقریباً دو من تھا اور اس کے بعد کسی مسلمان نوجوان کو اس میں شرکت کی جرأت نہ ہوئی۔ کوٹ کپورہ میں سالانہ تبلیغی جلسہ ہوتا تھا، جلسہ کے دوران میں ایک عاقبت نااندیش نے کھڑے ہو کر شرارت کرنے کی کوشش کی تو اس سے بروقت نپٹ لیا گیا۔ مگر پولیس کے ایماء پر مقدمہ درج ہوا تو اس میں حضرت مولانا مرحوم کو ملکی سیاسی رقابت کی بنا پر دھر لیا گیا۔ مولانا ان دنوں کچھ مرضِ سل کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ موسم گرمی کا تھا اور یوں جیل کی کوٹھڑی آپ کے لیے دوہری تکلیف کا باعث بن سکتی تھی، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ مولانا پانچ دن جیل میں رہے تھے تو ان دنوں مسلسل بادل و باراں اور ٹھنڈی ہوا چلتی رہی۔ ادھر مولانا کا جیل سے باہر آنا تھا کہ اسی دن بادل بھی غائب اور موسم حسبِ سابق تلخ، اس اتفاق کو تمام حضرات مولانا کی کرامت سمجھتے تھے۔ بدعات و خرافات کے خلاف آپ کے جہاد کا یہ عالم تھا کہ کوٹ کپورہ قبرستان کے پاس ایک پیر بے فقیر نے مرید سے کہا کہ یہاں مجھے ’’بھورا‘‘ بنا دیجیے۔ میں اس میں بیٹھ کر عبادت کروں گا اور لوگوں سے ملاقات صرف جمعرات کے روز ہوا کرے گی۔ چنانچہ وہ ’’بھورا‘‘ بنا دیا گیا، مگر حضرت مولانا سڑک پر کھڑے ہو جاتے اور لوگوں کو جمعرات کے روز اس پیر کے پاس جانے سے روکتے۔ پیر نے جب دیکھا کہ نذر و نیاز کے روز کوئی آتا ہی نہیں تو چند ہفتوں کے بعد خود بخود وہاں سے غائب ہو گیا۔ مولوی خوشی محمد رحمہ اللہ اسی قسم کے واقعات بڑی عقیدت سے بیان کرتے ہیں۔ حضرت مولانا جب بھی فیصل آباد تشریف لائے، مولوی صاحب موصوف سے مل کر واپس گئے۔ ایک دفعہ بیمار پڑ گئے تو ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، یہ راقم بھی ہمراہ تھا۔ جاتے ہوئے یک صد روپیہ دیتے ہوئے فرمایا: تکلیف تو بحمداللہ رفع ہو گئی ہے، مگر نقاہت کافی ہے، آپ اس سے دواء المسک لے کر کھائیں، جس سے حضرت مولانا کے حسنِ خلق اور اپنے رفقا و احباب سے خیر خواہانہ جذبات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک بار لاہور ملاقات کے دوران میں نے اپنے والد مرحوم کی علالت کا ذکر کیا۔ چند یوم بعد حضرت کا والانامہ موصول ہوا۔ افسوس وہ بھی ضائع ہو گیا، جو والد صاحب کی صحت کے بارے میں تھا، جس کا درد بھرا آخری جملہ آج بھی یاد ہے: ’’جلد جواب دینا فکر رہے گا۔‘‘