کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 171
شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ پیر جھنڈا میں مکتبہ کی بنیاد بھی انھوں نے رکھی۔ ان کی تصانیف میں ’’درج الدرر في وضع الأیدی علی الصدر‘‘، عین المتانۃ في تحقیق تکرار الجماعۃ‘‘، رفع الریب في مسئلۃ علم غیب‘‘ وغیرہ کے علاوہ سب سے اہم تصنیف ’’کشف الأستار عن رجال معاني الآثار‘‘ ہے جو دراصل علامہ عینی کی کتاب ’’معاني الاخیار‘‘ کا اختصار ہے جسے انھوں نے ۱۳۲۲ھ میں مدینہ منورہ میں مرتب کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے اہتمام سے یہ عظیم الشان کتاب ۱۳۴۹ھ میں شائع ہوئی۔ مفتی صاحب نے لکھا ہے:
’’لخصہ شیخ العرب والعجم صاحب العلم والعمل حضرت مولانا أبو تراب رشد اللّٰه شاہ السندھي الشھیر بصاحب العلم الرابع‘‘
جس سے سید رشد اللہ شاہ صاحب مرحوم کے علمی ذوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔[1] اس کشف الاستار کے بعض مقامات پر حضرت پیر ابو محب اللہ شاہ احسان اللہ شاہ مرحوم کے حواشی ہیں۔ جن سے علمِ رجال کے بارے میں ان کی وسعتِ معلومات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’مسلک الإنصاف في إفادۃ الأحناف علی طریق الأسلاف‘‘ کے نام سے بھی ان کی ایک کتاب ہے۔ مگر زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکی۔ مورخِ اسلام مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
[1] عرصہ ہوا کہ تقریب التہذیب کے حوالے سے بعض باتیں اس ناکارہ نے حضرت شاہ صاحب سے بذریعہ خط عرض کیں۔ اور بعض ان رجال کا بھی تذکرہ کیا جو تقریب کی شرط پر ہیں مگر تقریب میں نہیں۔ اور اسی ضمن میں عرض کیا گیا کہ کشف الاستار میں بھی سلیمان بن مسہر الفزاری کا ترجمہ نہیں ہے، حالانکہ امام طحاوی نے ’’باب التطوع بعد الجمعۃ‘‘ (۱/۲۳۳، ط: کراچی) میں اس کے واسطے سے روایت ذکر کی ہے۔ تو حضرت مرحوم نے تعجب و تشکر کے ملے جلے کلمات سے تحسین فرمائی۔