کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 166
کہ کوئی اپنے محبوب کو بھی عاریتاً دیتا ہے؟‘‘ حضرت شاہ صاحب کا تو ’’اوڑھنا بچھونا‘‘ گویا کتابیں تھیں۔ اور وہ اس بات کے مصداق تھے: مریں گے ہم کتابوں میں ورق ہوں گے کفن اپنا کتابوں سے تمام تر محبت کے باوجود اس ناکارہ پر ان کی یہ نوازش رہی کہ جس کتاب کو چاہا طلب کیا اور اس کے دینے میں کبھی انھوں نے تامل نہ فرمایا، بلکہ ’’الاحکام الکبری‘‘، ’’مسند أبي یعلٰی‘‘، ’’المطالب العالیہ‘‘ کا باسند نسخہ، ’’زوائد البزار‘‘ للحافظ ابن حجر اور ’’زوائد البزار‘‘ للھیثمي، ’’معرفۃ السنن والآثار‘‘ اور بہت سے بنیادی مراجع کا فوٹو عنایت فرمانے میں کوئی باک محسوس نہ کیا، حتی کہ جن دنوں یہ ناکارہ مسند الامام ابی یعلی الموصلی پر کام کر رہا تھا، اس کی تحقیق اسناد کے لیے بنیادی کتاب علامہ المزی رحمہ اللہ کی تحفۃ الاشراف کی شدید ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کے بغیر یہ کام بہرحال مشکل تھا، مگر یہ کتاب ان دنوں مکمل زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہوئی تھی۔[1] درِ دولت پر حاضر ہوا اور اس سلسلے میں اپنی مشکل کا اظہار کیا تو بلاتامل حضرت شاہ صاحب نے اس کا بقیہ مخطوط حصہ جو تین جلدوں پر مشتمل تھا، عطا فرما دیا: لطف ہا میکنی اے خاک رت تاج سرم
[1] یادش بخیر: علامہ المزی کا یہ شاہکار مولانا عبدالصمد رحمہ اللہ شرف الدین کی تحقیق سے طبع ہوا ہے جس کی جلد اول ۱۹۶۵ء میں اور جلد ثانی ۱۹۶۶ء میں طبع ہوئی۔ راقم ان دنوں الجامعۃ السلفیہ میں زیرِ تعلیم تھا۔ ہندوستان کے غالباً ’’ترجمان دہلی‘‘ میں دونوں جلدوں پر حضرت شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی محدث مبارک پوری مرحوم کا تبصرہ شائع ہوا۔ حضرت مولانا ابو حفص عثمانی مرحوم سابق ناظم الجامعۃ السلفیہ کی توجہ سے یہ تبصرہ پڑھا اور یوں پہلی بار اس کتاب کا تعارف ہوا اور اس کی عظمت کا سکہ لوحِ قلب پر منقش ہو گیا۔ بعد میں یہ عظیم کتاب حافظ فتحی المکی ۔نوّر اللہ مرقدہ۔ کی نظرِ عنایت سے اس ناکارہ کو حاصل ہوئی۔ جزاہ اللہ أحسن الجزاء.