کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد5 - صفحہ 141
[1]
[1] حضور والا بہت جلد لکھوا اور چھپوا کر بصورت کتاب ’’سیف چشتیائی‘‘ تیار کرا کے پیش حضور کر دیا اور میں نے جو بعض الفاظ امروہی وغیرہ کے مقابلے میں کتاب ہذا میں مزج کے طور پر تحریر کر دیے ہیں ۔۔۔۔۔ تو حضرت اقدس و ناظرین مجھے معاف فرما دیں۔‘‘
یہ عبارت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سیف چشتیائی میں پیر کہن سال مولوی محمد احسن امروہی قادیانی کے جواب میں جناب غازی صاحب نے بھی قلمکاری کی ہے بلکہ کتاب کی مختلف عبارتوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، مثلاً (ص: ۸۴، ۸۵) میں مرزا قادیانی کی غلط پیش گوئیوں کے بارے میں یہ بھی کہا گیا:
’’پیر مہر علی شاہ صاحب کے لیے آپ ہر چند دانت پیستے رہے مگر ان کی شہرت ہی شہرت اور عزت ہی عزت ہوتی رہی۔‘‘ (ص: ۸۵)
ظاہر ہے کہ یہ کلمات پیر صاحب کے نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح قادیانی کے جواب میں ایک مقام پر لکھا گیا:
’’جناب من کیا ہانکے جا رہے ہو کس جگہ شمس الہدایہ کے مصنف رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔ الخ‘‘ (ص: ۱۴۶)
یہ عبارت تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ شمس الہدایہ کے مصنف جناب پیر صاحب کی وفات کے بعد کے ایڈیشن میں یہ الفاظ لکھے گئے اسی طرح (ص: ۱۵۳) میں ’’شمس الہدایہ‘‘ کے مصنف علیہ الرحمۃ کے الفاظ بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لہٰذا پہلے ایڈیشن ہی میں نہیں بلکہ مصنف کی وفات کے بعد بھی بلاتمیز مسلسل اس قسم کے اضافے کیے گئے جو اس کی پوزیشن کو کمزور کر دیتے ہیں، باعثِ غور یہ بات بھی ہے کہ ’’مہر منیر‘‘ کے مصنف نے سیف چشتیائی کا حجم ’’۴۰۰ صفحے‘‘ بتلایا ہے (ص: ۵۴۵)۔ ممکن ہے پہلی طبع ’’ازالہ اوہام‘‘ کی طبع اول کی طرح چھوٹے سائز پر ہو، ورنہ جو ایڈیشن ہمارے پیش نگاہ ہے اور جس میں پیر صاحب کے انتقال کے بعد بھی اضافے کیے گئے ہیں وہ مع اشتہارات کے جو پیر صاحب اور قادیانیوں کے مابین شائع ہوتے رہے، وہ کل ۳۶۸ صفحات پر مشتمل ہے ۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ أعلم۔
علاوہ ازیں ’’سیف چشتیائی میں چند باتیں قابلِ توجہ ہیں:
1. اس کتاب میں حیاتِ مسیح کے اثبات میں ایک عبارت یوں نقل کی گئی ہے: ’’قال شیخ الإسلام المراني‘‘ (ص: ۵۰) اور ایک دوسرے مقام پر اسی عبارت کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’اور شیخ الاسلام مرانی کی عبارت ابتدائی کتاب ہذا میں نقل کی گئی ہے‘‘ (ص: ۱۲۳) ظاہر ہے کہ ان دونوں مقامات پر شیخ الاسلام سے مراد شیخ الاسلام ابن تیمیہ ہیں۔
2. اسی طرح حیاتِ مسیح کی روایات کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’خاتم المحدثین امام شوکانی‘‘ (ص: ۱۰۲) اور چند اوراق پر پھر ’’امام شوکانی‘‘ (ص: ۱۳۲) لکھا ہے کہ امام شوکانی کو گویا خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس حقیقت کے بعد امید ہے کہ کم از کم گولڑہ کے متوسلین حضرات ان دونوں اکابر کے بارے میں معروف بریلوی تاثر قبول نہیں کریں گے۔
3. حیات مسیح سے متعلقہ احادیث کا کئی بار حوالہ ’’فتح البیان‘‘ کا دیا گیا ہے۔ (ص: ۴۹۔ ۱۳۱۔ ۱۴۰) فتح البیان حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی مرحوم کی تصنیف ہے (فتدبر)۔ اس نوعیت کی اور بہت سی باتیں ہیں مگر ان کی تفصیل کا نہ یہ مقام ہے اور نہ ہی ہمارا یہ موضوع ہے۔