کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 480
عاقبت روزے بودکاں آفتاب در برش گیر دلبر انداز نقاب
بلاشبہ وہ جلد ہی آفتاب بن کر چمکے اور جلد غروب ہو گئے۔ بڑے خوش نصیب ہیں، جنھوں نے ان سے روشنی حاصل کی۔ ان کی مجلسوں اور محفلوں سے دل کی اجڑی دنیا کو بسایا۔ اپنے اللہ کریم کو راضی کرنے کا ان سے سلیقہ سیکھا، لیکن آہ! اپنا تو یہ حال ہے ع
در مجلس وصالت خمہا کشند مرداں چوں در خسرو آید مئے در سبو نماند
اللہ تعالیٰ ہماری اور ان کی لغزشوں پر نظرِ عفو فرمائے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ بخشے۔ میں نے انھیں دعائے یوسفی بکثرت پڑھتے سنا۔ امید واثق ہے کہ اللہ کریم و رحیم نے اسی کے مطابق معاملہ کیا ہو گا۔
بشکریہ
ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘
۸؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء