کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 474
راجعاً إلی اللّٰہ، متذلّلاً، خاشعاً، ورعاً، متضرعاً، متواضعاً، حنیفاً کاملاً إمام الزمان، ولي الرحمان خادم القرآن، متقرباً إلی اللّٰه المنان، وکان في جمیع أحوالہ مستغرقاً في ذکر اللّٰه عزوجل حتی أن لحمہٗ وعظامہٗ وعصابہٗ وأشعارہٗ وجمیع بدنہ کان متوجہاً إلی اللّٰه تعالیٰ فانیاً في ذکرہ عزوجل‘‘[1]
حضرت مولانا غلام رسول رحمہ اللہ نے ان کی شخصیت کا جو تعارف محبت بھری زبان میں بیان فرمایا وہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ وصیت نامہ میں لکھتے ہیں:
’’صحبت محدثین لازم شمارند کہ اہلِ حدیث اہل اللہ وبعد فراغ از علم دینیہ دست بیعت بشیخ کامل مکمل دہند ودریں زمان مثل عبداللہ غزنوی در قیاس ما احدے نیست۔ صحبتش اکسیر است وبحقیقت آنحضرت کامل مکمل پیراست۔ و عبدالقادر[2] ترجمہ قرآن ازیشان شروع کنند و بسم اللہ عبدالعزیز[3] ازیشان شروع کندکہ در عقیدۂ فقیر مثل جنید و نظیر حضرت بایزید است۔‘‘
لا یدرک الواصف المطری خصائصہٗ
وإن یک سابقا فی کل ماوصفا
ہمیں بس گرچہ بس کاسد قماشم کہ در سلک خریدارانش باشم
(سوانح مولانا غلام رسول مرحوم)
[1] ’’مقدمہ غایۃ المقصود‘‘.
[2] آپ کے بڑے صاحبزادے کا نام ہے۔
[3] آپ کے دوسرے صاحبزادے۔ دونوں علم و فضل میں کامل تھے۔ وذلک فضل اللّٰه یؤتیہ من یشآء.