کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 372
میں الجامعہ سے تشریف لے جا چکے تھے۔[1] البتہ ان کے درس کی دھاک اور اس کا چرچا درجہ عالیہ کے طلبا اور تمام اساتذہ کرام کی نوکِ زباں تھا اور ان کی مسند پر انھی کے شاگردِ رشید استاذ العلماء حضرت حافظ مولانا محمد عبداللہ صاحب بڈھیمالوی مدظلہ جلوہ افروز تھے۔[2] متوسطات کی تعلیم سے فارغ ہو کر آخری سال کے لیے کشاں کشاں گوجرانوالہ جامعہ اسلامیہ چاہ شاہاں میں حاضر ہوا اور یوں حضرت صاحب کے درس میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مجلسِ درس: اس مختصر زندگی میں بہت سے اساتذہ اور شیوخِ وقت سے استفادہ کا موقع ملا، مگر جو شان حضرت حافظ کے حلقۂ درس میں پائی وہ راقم آثم کو کہیں نظر نہیں آئی۔
[1] الجامعہ سے ان کی علاحدگی بجائے خود ایک المیہ تھا۔ کسے معلوم نہیں کہ حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی جامعہ سلفیہ کمیٹی کے صدر اور حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب چیمہ مدظلہ جامعہ کے مہتمم تھے، مگر پہلے ایک پروگرام کے تحت حضرت غزنوی مرحوم کو کمیٹی کی صدارت سے علاحدہ کر کے ایک صاحبِ ثروت کو ان کی جگہ صدر بنا دیا گیا۔ پھر ظلمات بعضہا فوق بعض کے مصداق انھوں نے مولانا چیمہ صاحب مدظلہ کی جگہ فیصل آباد کے ایک متمول آدمی کو الجامعہ کا مہتمم مقرر کر دیا، جس نے ایسا گھٹیا انداز اختیار کیا جو عموماً سرمایہ دار ذہن کا ہوتا ہے، جس کی بنا پر حضرت حافظ صاحب مرحوم کو بھی مجبوراً الجامعہ کو خیرباد کہنا پڑا۔ [2] جماعت اہلِ حدیث کی بدنصیبی نہ کہوں تو کیا کہوں کہ استاذ العلما مولانا حافظ محمد عبداللہ صاحب جیسے صاحبِ علم اور صاحبِ ورع و تقویٰ بھی شہر بلکہ قصبات چھوڑ کر تاندلیانوالہ کے قریب ایک گاؤں ’’کمیانہ‘‘ میں ڈیرہ ڈالنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ کسے معلوم نہیں کہ ان کا شمار حضرت حافظ صاحب کے ارشد تلامذہ میں ہوتا تھا، بلکہ بقول فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف صاحب رحمہ اللہ ، حضرت رحمہ اللہ کے تلامذہ میں سب سے زیادہ آپ نے کسبِ فیض کیا اور خود حضرت ان پر اعتماد کا اظہار فرماتے اور دورانِ تلمذ سیبویہ کے لقب سے پکارتے تھے۔ آہ! حضرت بڈھیمالوی صاحب بھی ۸ مئی ۱۹۸۷ء کو بعمر ۸۰ سال انتقال فرما گئے۔ رحمہ اللّٰه رحمۃ واسعۃ.