کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 300
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ’’المکتبۃ السلفیہ‘‘ کی دیگر مطبوعات مثلاً سنن دارقطنی، معجم طبرانی صغیر وغیرہ کی طرح اس میں بھی طباعتی اغلاط بہ کثرت ہیں۔ مولانا محمد عزیر صاحب نے لکھا ہے کہ طبع ثالث میں کثرتِ اغلاط کی بنا پر عرب میں بعض علم دوست حضرات نے اس کی طبع رابع کا فیصلہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی پہلی دو جلدوں کا خطی نسخہ خدا بخش پٹنہ لائبریری میں محفوظ ہے۔ جن کا نمبر شمار ۳۱۱۸۔۳۱۷۹ ہے جس کی جلد اول ورق ۳۳۴ میں اور ثانی ورق ۱۱۴ میں مشتمل ہے، جو ہمارے مطبوعہ نسخہ کے اعتبار سے جلد دوم (ص: ۲۷۶) تک ہے جس پر مؤلف کے قلم سے کچھ زیادات ہیں جس سے اس نسخے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ (’’حیاۃ المحدث‘‘ ص: ۱۴۲،۱۴۳) اور حال ہی ۱۳۹۹ھ میں اس کا چوتھا ایڈیشن بڑی آب و تاب سے ادارہ نشر السنۃ ملتان نے جو شائع کیا ہے وہ ہندی نسخے ہی کا عکس ہے اور مناسب کتابی سائز ہے۔ اس کے بعد بھی اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔ سببِ تالیف: صوبہ بہار میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ سنن ابو داود کی شرح کا خیال سب سے پہلے مولانا رفیع الدین صاحب شکرانوی[1] کو ہوا۔ اس بات کا علم جب علامہ ڈیانوی کو ہوا تو انھوں نے مسابقت کرتے ہوئے دو شرحوں کی طرح ڈالی۔ مولانا شکرانوی کو اس کی محرومی کا صدمہ تاحیات رہا، بلکہ اس سے آگے مولانا مناظر احسن گیلانی نے یہ تک لکھ دیا کہ واللہ اعلم یہ بات کہاں تک صحیح ہے کہ شرح ’’عون المعبود‘‘
[1] آپ بھی صدیقی شیخ اور محدث ڈیانوی کے معاصر تھے حضرت میاں صاحب رحمہ اللہ سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ محدث ڈیانوی رحمہ اللہ کی طرح نوادرات و مخطوطات کا بیش بہا ذخیرہ انھوں نے جمع کر رکھا تھا۔ سنن ابی داود کے رجال پر انھوں نے ایک مستقل رسالہ بنام ’’رحمۃ الودود علی رجال سنن أبي داود‘‘ لکھا ہے۔ حالات کے لیے دیکھیے: ’’اہلِ حدیث‘‘ (امرتسر) ۲۴ اکتوبر ۱۹۱۹ء جلد: ۱۶، شمارہ: ۴۷۔ ’’برہان‘‘ (دہلی) فروری ۱۹۵۱ء۔ ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۸/۱۰۳).