کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 266
لیے چلا آرہا تھا، اس کے ساتھ آپ ملقب ہوئے اور ’’میاں صاحب‘‘ کے پیارے لقب سے پکارے جانے لگے۔ خاندان ولی اللہ کی صحیح جانشینی اور ساٹھ سال تمام علوم بالخصوص درسِ حدیث کی وجہ سے ’’شیخ الکل فی الکل‘‘[1] کا لقب ملا۔ اکابر اہلِ علم نے جن الفاظ سے آپ کے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اس کا استیعاب مشکل ہے اور ’’الحیاۃ بعد المماۃ‘‘ وغیرہ میں وہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم یہاں صرف دو شہادتوں پر اکتفا کرتے ہیں، جن کا ذکر متقدمین تذکرہ نگاروں نے نہیں کیا۔ مولانا امیر علی تلمیذِ رشید مولانا عبدالحی لکھنوی مترجم عالمگیری و مصنف تفسیر مواہب الرحمان، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے اپنے سلسلۂ سند کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’واعلم أن إسنادي اتصل إلی الشیخ الإمام المصنف رحمه اللّٰه عن شیخنا الإمام شرف الأنام الزاھد العابد العالم الرباني الذي ما أحسبني رأیت مثلہ بعیني ھاتین مولانا السید نذیر حسین الدھلوي الخ‘‘[2] ’’امام مصنف (ابن حجر رحمہ اللہ ) سے میری سند بواسطہ ہمارے شیخ امام شرف الانام زاہد عابد عالم ربانی ایسا کہ میری ان دونوں آنکھوں نے ان جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔ مولانا سید نذیر حسین دہلوی ہیں۔‘‘ شیخ غلام فرید[3] سے کون واقف نہیں۔ اشارات فریدی میں ان سے منقول ہے۔
[1] ’’اہلِ حدیث‘‘ (دہلی) ۲۱ صفر ۱۳۸۰ بمطابق ۱۵؍ گست ۱۹۲۰ء میں مولانا حکیم عبدالشکور گوڑگانوی کا ایک مفصل مضمون بعنوان ’’حضرت شیخ الکل مجدد رحمانی رحمہ اللہ کا سنِ ولادت و عمر شریف شائع ہوا جس میں مختلف اقوال نقل کر کے آپ کا سنِ پیدایش (۱۲۲۰ھ) ہی صحیح قرار دیا ہے۔ [2] التذنیب لتعقیب التقریب (ص: ۳۴). [3] خواجہ غلام فرید سے اہلِ پنجاب اور بالخصوص اہالیان بہاولپور غافل نہیں۔ انہی کے ایک غالی عقیدت مند کا یہ شعر ہے ع چاچڑ وانگ مدینہ ڈسے تے کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچ پیر فریدن باطن دے وچ اللہ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی مفید ہو گا کہ شیخ موصوف سے کسی نے پوچھا کہ شیعہ اور وہابیوں میں کیا فرق ہے تو اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا: وہابی نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہتے نہ ولایت کے منکر ہیں اس کے برعکس شیعہ ولایت کے بھی منکر ہیں اور توحید کے بارے میں وہابیوں کے عقائد صوفیائے کرام سے ملتے جلتے ہیں۔ وہابی کہتے ہیں کہ انبیا اور اولیا سے مدد مانگنا شرک ہے، بے شک غیرِ خدا سے امداد مانگنا شرک ہے توحید یہ ہے کہ خاص حق تعالیٰ سے طلب کرے۔ چنانچہ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴾ کا مطلب یہی ہے۔ ’’اشاراتِ فریدی‘‘ مترجم (ص: ۷۹۶، ۷۹۷) ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ ﴾ [قٓ: ۳۷].