کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 260
مگر مولانا شفیع احمد بہاری نے آپ کا مولد ڈیانواں ہی نقل کیا ہے۔ (برہان: جولائی ۱۹۵۱ء) لیکن یہ صحیح نہیں۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے میکے یعنی ڈیانواں[1] میں آگئیں۔ پھر آپ ہمیشہ وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اسی بنا پر ڈیانوی مشہور ہوئے۔ بچپن ہی کی عمر میں (م ۱۲۸۴ء) میں والدِ گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو آپ نے اپنے بڑے ماموں مولوی محمد حسین کے ہاں تربیت پائی، جو آپ کو حقیقی فرزند سمجھتے اور آپ کی تعلیم اور ساری خواہشوں کے کفیل تھے! (’’اہلِ حدیث‘‘)۔
تعلیم و تربیت اور شیوخ و اساتذہ
۱۲۷۹ھ میں جب آپ کی عمر چھے برس کی ہوئی تو مولانا ابراہیم[2] بن مدین اللہ بن امین اللہ نگرنہسوی (م ۱۲۸۲ھ) سے تعلیم کا آغاز کیا۔ استادِ محترم نے تفنن طبع کا ثبوت دیتے ہوئے تعلیم کا آغاز ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴾ [العلق: ۱] سے کیا ہے۔ ڈیانواں ہی میں قرآن مجید حافظ محمد اصغر رامپوری رحمہ اللہ سے ختم کیا۔ جو اس وقت
[1] مولانا شفیع احمد بہاری نے اول تو اس قصبے کا نام ڈبانواں ذکر کیا ہے۔ ثانیاً لکھا ہے کہ پٹنہ سے جنوب و مشرق میں واقع ہے۔ ’’برہان‘‘ (جولائی ۱۹۵۱ء) مگر مولانا عبدالرشید فوقانی نے لکھا ہے کہ ڈیانواں پٹنہ سے چھے میل کے فاصلے پر جنوب مغرب میں سادات و شیوخ کی قدیم آبادی ہے ’’حاشیہ القول الحسن‘‘ (ص: ۱۰)۔
[2] آپ نے کتبِ احادیث مولانا محمد اسحاق محدث دہلوی اور کتبِ معقول مولوی نور الاسلام رام پوری سے پڑھیں۔ مولانا صدر الدین سے بھی شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ’’تذکرۃ النبلاء‘‘ میں محدث ڈیانوی نے ان کا ترجمہ لکھا ہے اور اسی کے حوالے سے سید عبدالحی نے ان کا ذکرِ خیر ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۷/۵) میں کیا ہے مولانا محمد سعید حسرت عظیم آبادی (استاذ علامہ نیموی) نے آپ کی تاریخِ وفات پر ایک قطع لکھا۔ جس میں ’’شد بگلزار جنت ابراہیم‘‘ سے سنِ وفات نکالا۔ ’’القول الحسن‘‘ (ص: ۲۰، ۲۱).