کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 257
مشہور ہیں۔ اول الذکر نے پھلواری ضلع پٹنہ کو رونق بخشی۔ یہاں یہ شجرہ خوب پھلا پھولا۔ اس سلسلے کے مشاہیر میں حضرت مولانا برہان الدین قادری (م ۱۰۶۵ھ بمطابق ۱۶۵۴ء) مؤلف سیدھا رستہ، مولانا عتیق بہاری[1] (م ۱۱۴۹ء)، مولانا عبدالمقتدر بن مولانا عبدالنبی بہاری، مولانا شیخ وجیہ الحق بن امان اللہ پھلواری (م ۱۰۵۰ھ) اور حضرت شاہ ظہور الحق[2] (م ۱۲۳۴ھ) حافظ صحیحین و حصن و حصین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں (مجلہ ’’برہان‘‘ فروری ۱۹۵۱ء) اور امام مظفر بن شمس الدین بلخی (م ۷۸۲ھ) حضرت مخدوم بہاری کے انتقال کے بعد ان کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے آپ کثیر التصانیف ہیں اور سو کے قریب آپ کے مکاتیب ملتے ہیں، جنھیں مولوی عبدالرحمان بہاری نے ترجمہ کر کے مع متن طبع کرانا چاہا تھا۔ ۳۰؍ ۳۲ مکاتیب طبع بھی ہوئے۔ بقیہ مکاتیب پروفیسر معین الدین دروائی کے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔ نیز خدا بخش خاں بانگی پور لائبریری میں بھی ان کے مکتوبات ہیں اور ایک مطبوعہ دیوان فارسی میں بھی ملتا ہے۔[3] اس کے بعد یہ خطہ مسلسل علما و فضلا کی آماجگاہ بنا رہا۔ بہار کی تاریخِ حدیث کے سلسلے میں جن کے اسمائے گرامی رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہیں گے۔ ان میں
[1] شیخ محمد عتیق اپنے چچا مولانا عبدالمقتدر کے شاگرد ہیں ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۶/۳۳۰) اور شیخ وجیہ الحق حضرت شیخ محمد عتیق کے شاگرد ہیں۔ ’’أخذ الحدیث عن الشیخ محمد عتیق البھاري وقرأ علیہ المشکاۃ والصحیحین وأجاز لسائر کتب الحدیث‘‘۔ ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۶/۳۹۷) بلکہ سید عبدالحی مرحوم نے شیخ محمد عتیق بہاری کا وہ اجازہ نامہ جو انھوں نے شیخ وجیہ الحق کو دیا تھا۔ اس کا کچھ حصہ ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۶/۳۳۰) میں نقل بھی فرمایا ہے۔ ولله درہ!. [2] آپ نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ سے بھی اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (۷/۲۲۶). [3] بہار میں اردو (ص: ۱۵۲) نیز دیکھیے: ماہنامہ ’’برہان‘‘ (دہلی) ۱۹۵۱ء فروری۔