کتاب: مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 212
دکتور موفق بن عبداللہ نے المؤتلف کے مقدمہ میں امام دارقطنی کی ۸۲ کتابوں کا ذکر کیا ہے مگر یہ فہرست بھی مکمل نہیں، اس کے علاوہ بھی کئی کتابوں کا ذکر ملتا ہے، مثلاً: 1 ثناء الصحابۃ علی القرابۃ وثناء القرابۃ علی الصحابۃ: حافظ ابن تیمیہ نے اس کا ذکر منہاج السنۃ (۴/۱۰۵) میں کیا ہے۔ 2 النبیذ: شیخ ابن دحیہ نے اس کا ذکر ’’الآیات البینات في ذکر ما في أعضاء رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم من المعجزات‘‘ (ص: ۴۲۲) میں کیا ہے۔ 3 بعض أحادیث المقلین من أبناء المکثرین وبعض أحادیث المکثرین عن آبائھم المقلین وعن إخوانھن المقلین: اس کا ذکر علامہ ابن دقیق العید نے ’’الإمام‘‘ (۲/۵۴) میں کیا ہے۔ 4 أحادیث أبي بردۃ برید بن عبد اللّٰه بن أبي بردۃ: بحوث تاریخ السنۃ المشرفۃ (ص: ۲۲۶) وفات: مشہور روایت کے مطابق آپ ذیقعدہ ۳۸۵ھ میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔[1] إنا للّٰه وإنا إلیہ راجعون نمازِ جنازہ شیخ ابو حامد الاسفرائنی نے پڑھائی اور باب الدیر میں معروف
[1] حضرت النواب رحمہ اللہ نے إتحاف النبلاء میں ان کی وفات ۳۳۵ھ ذکر کی ہے، جس پر صاحبِ ابراز الغی نے تعاقب کیا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ حضرت النواب رحمہ اللہ نے یہ سن صاحبِ کشف سے نقل کیا ہے، لہٰذا ان پر اس قسم کے تعاقب بے جا ہیں۔ مزید برآں یہ کہ صاحب ابراز نے اقرار بھی کیا ہے: ’’إن الناقل من حیث أنہ ناقل لا یرد علیہ شيء‘‘ إبراز الغي (ص: ۴۱) تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’تبصرۃ الناقد‘‘ (ص: ۸۳).