کتاب: مومن کی نماز - صفحہ 41
کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
4۔ دل سے نیت کرنا:
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔))[1]
’’عملوں کی قبولیت کادارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘
نوٹ:نیت قصد اور ارادے کو کہتے ہیںجوکہ دل کی کیفیت ہے اس لیے نیت کامحل دل ہے۔[2]
5۔ تکبیر (اَللّٰہُ أَکْبَرُ ) کہنا
1۔ جیساکہ سیّدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلٰوۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوْئَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ۔))[3]
’’جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے مکمل وضوء کر پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہہ۔‘‘
2۔ اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
(( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَسْتَفْتِحُ الصَّلٰوۃَ بِالتَّکْبِیْرِ۔))[4]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو اللہ اکبر کہہ کر شروع کرتے تھے۔‘‘
[1] صحیح البخاری: کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللہ صلي الله عليه وسلم : حدیث نمبر : 1 وصحیح مسلم: کتاب الإمارۃ باب قولہ صلي الله عليه وسلم إنما الأعمال بالنیۃ :حدیث نمبر : 4927۔
[2] فتح الباری : 1/16،17۔
[3] صحیح البخاری:کتاب الأذان باب أمر النبی صلي الله عليه وسلم الذی لا یتم رکوعہ بالإعادۃ:حدیث نمبر : 793 وصحیح مسلم: باب وجوب قرائۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ وانہ اذا لم یحسن… حدیث نمبر:886 واللفظ لہ۔
[4] صحیح مسلم: کتاب الصلوۃ باب ما یجمع صفۃ الصلاۃ وما یفتتح بہ ویختم بہ :حدیث نمبر : 1110۔