کتاب: مومن کی زینت داڑھی - صفحہ 83
اصولیوں کے ہاں ۔((ان قول الصحابی مذہب لہ فقط ولا یکون حجۃ حتی یجمع علیہ)) ’’صحابی کا قول صرف اسی کے مذہب کو باور کرواتا ہے، اس وقت تک وہ حجت نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر اجماع نہ ہو‘‘… ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر اجماع نہیںہے۔پھر ان تمام روایات سے واضح ہے کہ ان کا فعل بھی حج یا عمرے کے وقت تھا عام نہیں تھا۔ اس لیے امام نووی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ((المختار ترک اللحیۃ علی حالھا و ان لا یتعرض لھا بتقصیر شی ء اصلا)) ’’مختار اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ داڑھی کو اس کے حال پر چھوڑا جائے ، کسی قسم کا تعرض کیا جائے نہ اس میں سے کچھ کاٹا جائے۔‘‘ شارح ترمذی علامہ عبدالرحمن المبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((و اما قول من قال انہ اذا زاد علی القبضۃ یؤخذ الزائد واستدل بآثار ابن عمروعمرو ابی ھریرۃرضي اللّٰه عنه فھو ضعیف لان احادیث الاعفاء المرفوعۃ الصحیحۃ تنفی ھذہ الآثار فھذہ الآثار لا تصلح للاستدلال بھا مع وجود ھذہ الاحادیث المرفوعۃ الصحیحۃ فاسلم الاقوال ھو قول من قال بظاہر احادیث لاعفاء و کرہ ان یؤخذ شی ء من طول اللحیۃ و عرضھا)) [1] ’’رہا ان لوگوں کا قول کہ قبضہ (مٹھ) سے زائد کو کاٹا جائے اور وہ ابن عمر و عمر وابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آثار سے استدلال کرتے ہیں تو یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ مرفوع اور صحیح احادیث جو کہ داڑھی کو معاف کرنے پر دلالت کرتی ہیں ان