کتاب: مومن کی زینت داڑھی - صفحہ 67
داڑھی منڈھوائے گا اس پر اجتماعی عقوبت اس طرح وارد کی گئی کہ اس کی شہادت ہی قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ ((المیسر علی الخلیل۔)) میں باقاعدہ نص ہے کہ ((من تعمد حلقھا یؤدّب وتردّ شھاد تہ)) …’’جو شخص عمداًداڑھی منڈھوائے گا اس کو ادب سکھلایا جائے گااور اس کی شہادت رد کر دی جائے گی‘‘…علامہ الدسوقی کہتے ہیں کہ ((یحرم علی الرجل حلق لحیتہ او شاربہ و یؤدب فاعل ذٰلک۔))… ’’مرد پر داڑھی اور مونچھوں کو بالکل صاف کرنا حرام ہے اور اس کے کرنے والے کو ادب سکھلایا جائے گا‘‘… اس لیے کہ داڑھی کاٹنا اور منڈھوانا یہ اشرف المخلوقات کی توہین ہے، اللہ تعالیٰ نے جس امتیاز کے ساتھ اسے پیدا کیا اور چہرے پر عزت وتکریم کے لیے اُگائی داڑھی کو جو شخص ختم کر تا ہے وہ توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور افسوس تو یہ ہے کہ یہودیوں کی خصلت اپنا کر مسلمانوں کو جو کہ داڑھیوں والے ہیں ان کو اپنے طعن وتشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا : ((یَبْصرُ اَحَدُکُمُ الْقَذَاۃَ فِی عَیْنِ اَخِیْہِ وَیَنْسَیٰ الْجَذَعَ فِی عَیْنِہٖ مُعْتَرِضاً))[1] ’’اعتراض کرنے والے کو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا بھی نظر آجاتاہے اور اپنی آنکھ میں شہتیر بھی ہو تو نظر نہیں آتا۔‘‘ اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لا متناہی کو بھول چکا ہے اور اس کی دائمی وابدی مراقبت سے مدہوش ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو مرضی کر لوں یا کسی کو کہہ لوں ، کون دیکھ رہا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو علیم بذات الصدور اور علام الغیوب اور شاعر کہتا ہے : اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب