کتاب: مومن کی زینت داڑھی - صفحہ 55
((ونتفھاای اللحیۃ فی اول نباتھا تشبہ بالامرد و من المنکرات الکبار)) ’’داڑھی کے سفید بالوں کو اکھاڑنا ایک تو امرد (وہ نوجوان جس کی داڑھی نکلنے والی ہو اور مونچھیں کچھ ظاہر ہوں)کے مشابہ ہے دوسرا کبیرہ منکرات میں سے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو داڑھی کی عظمت پہچاننے اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق دے… آمین 2: داڑھی نہ رکھنا اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے: داڑھی نہ رکھنا یا کٹوانا جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے وہاں یہ تخلیق رب العالمین میں تبدیلی کی جرأت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : {لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ} (الروم: 30)’’تخلیق باری تعالیٰ میں تبدیلی نہ کرو۔‘‘ یہ ہے تو خبر لیکن بمعنی طلب ہے جیسا کہ مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے اور تخلیق کو بدلنے کا طریقہ تو سب سے پہلے شیطان نے سوچا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو کہ شیطان کی کارستانی اور جرأت کو ظاہر کرتا ہے۔ {لَاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیباً مَفْرُوضًا وَلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ آذَانَ الاَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ} (النساء118۔119) ’’(شیطان نے کہا) تیرے بندوں میں سے (یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے) ایک مقرر شدہ حصہ لے کر رہوں گا اور انہیں راہ سے بہکاتا رہوں گا اور انہیں باطل اُمیدیں دلاتا رہوں گا اور انہیں سکھلاؤں گا کہ جانوروں کے کان