کتاب: مومن کی زینت داڑھی - صفحہ 22
نزدیک ناقص ہے۔‘‘ اور قاضی شریح کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے کہا: ((وددت لو أن لی لحیۃ بعشرۃ آلاف درہم)) ’’میں چاہتا ہوں کہ کاش مجھے دس ہزار درہم کی ہی داڑھی مل جائے۔‘‘ لیکن تعجب ہے آج کے مسلمان پر جو روپے خرچ اس لیے کرتے ہیں کہ ہماری داڑھی نظر ہی نہ آئے اور اس زیور کو معدوم کرنے کے لیے دولت برباد کرتے ہیں، حالانکہ یہ تکریم اور تعظیم کی علامت ہے جیسا کہ قاضی ابو یوسف فرماتے ہیں: ((من عظمت لحیۃ جلت معرفتہ۔))[1] ’’جس شخص کی داڑھی بڑی ہو گی اس کی معرفت عالی شان ہو گی۔‘‘ شیخ ابو طالب مکی (قوۃ القلوب 4/9 )میں مزید نقل کرتے ہیں کہ بعض ادباء نے کہا ہے : (( فی اللحیۃ خصال نافعۃ منہا تعظیم الرجل والنظر اِلیہ بعین العلم والوقار و منھا رفعہ فی المجالس والاِقبال علیھم و منھا تقدیمہ علی الجماعۃ و تعقیلہ فیھا وقایۃ للعرض یعنی اِذا ارادوا شتمہ عرضوا لہ بھا فوقت عرضہ))[2] ’’داڑھی کے بہت سے فوائد ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کی نظر میں داڑھی والے کی عزت ہوتی ہے اور اس کو علمی اور باوقار شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کو تعظیم کی خاطر اونچی اور نمایاں جگہ پر بیٹھایا جاتا ہے اور سب اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جماعت وغیرہ میں اس کو آگے کیا جاتا ہے۔ اس میں عزت کی حفاظت بھی ہے، جب کوئی شخص فحش کلامی کرنے لگتا ہے تو اس کی داڑھی دیکھ کر اسے شرم آجاتی ہے اس طرح داڑھی والے شخص کی عزت بچ جاتی ہے۔‘‘ اور علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: [1] قوۃ القلوب للمکی4/9۔ [2] التبیان فی اقسام القرآن2 31۔