کتاب: مومن کی زینت داڑھی - صفحہ 11
ہونٹ کے نیچے کے بال( جس کو حدیث میں عنفقۃ بچہ داڑھی کہا گیا ہے) اس قدر کو جس طرح بے تحدید وتعیین لکڑی کی چھال ہوتی ہے حتیٰ کہ الألحی واللحیانی جو عربی لغت میں مستعمل الفاظ ہیں(لمبی داڑھی والے کو الألحی واللحیانی کہتے ہیں)ان کا تحقق ہو سکے۔ تو لغوی واصطلاحی تعریف سے یہ پتہ چلا کہ انسان کے چہرے پر گالوں اور کانوں سے لے کرنچلے جبڑے پر جتنے بال ہوتے ہیں (سوائے اوپر والے ہونٹ پر جنہیں مونچھیں کہتے ہیں) وہ داڑھی کے ہوتے ہیں جو کہ بعض اشخاص پر انگلش کے لفظ (یو) کی طرح ظاہر ہوتے ہیں اور بعض پر(وی) کی شکل میں ہوتے ہیں نیز لکڑی کی چھال اور تالاب کے کناروں کی طرح بغیر ترتیب و تدقیق و تعیین وتحدید کے ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ داڑھی کو سیٹ کرنا، اس کی نوک پلک سدھارنا، خط بنوانا اور داڑھی میں ڈیزائننگ کرنی یا اس کی کانٹ چھانٹ خواہ وہ کلی ہو یا جزوی ہو سب کی سب لفظ اللحیۃ کے لغوی طور پر مخالف ہے بلکہ مذکورہ صورتیں شرعی طور پر قبیح ہیں کیونکہ شریعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل پر مبنی ہے۔[1] واللّٰہ أعلم وعلمہ أتم وإسناد العلم إلیہ اسلم [1] المعجم الوسیط1،2/820، و تاج العروس10/ 32 3، ولسان العرب 15/25 3، ومجمع بحار الأنوار 3/250، والمنجد 917، وشرف المسلم26، 27 وغیرہ من الکتب فی شروع الحدیث مثل فتح الباری۔