کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 94
حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کا اندازِ تحریر حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ صاحبِ قلم بھی تھے۔ آپ نے تصنیف و تالیف کی طرف 1948ء میں توجہ فرمائی۔ اپنی گونا گوں مصروفیات جن میں درس و تدریس، خطبہ جمعہ، جماعتی تنظیم کے لیے ملک بھر کے دورے اور کمزوری صحت کے باوجود آپ نے بہت بڑا ذخیرہ مطبوعہ و غیر مطبوعہ چھوڑا ہے۔ اردو انشا پردازی میں آپ صاحب طرز تھےجس میں روانی، سلاست، برجستگی، الفاظ کا چناؤ اور پھر ان کا جڑاؤ اور پھر محل کے مطابق اشعار کی آمد، امام الہند مولانا ابو الکلام کی طرح آیاتِ قرآن کا برمحل استعمال اور فارسی،عربی اور اردو اشعار کو عبارت میں نگینہ کی طرح جڑتے ہیں۔ ان کی تصانیف سے ان کے عمیق مطالعہ، تحقیقی اسلوب اور علمی بصیرت کا بھرپور تاثر ملتا ہے۔ اپنی تحریر میں بے معنی طوالت سے گریز کرتے ہیں۔ لمبی سے لمبی بات کو بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ آپ کی تحریر میں تخیل کی رفعت، زبان و بیان کی رعنائی اور ادبی شان پائی جاتی ہے۔ ہلکے پھلکے مختصر اور خوبصورت جملے آپ کا مخصوص طرز نگارش ہے۔ مولانا کی سادہ اور بے ساختہ تحریروں میں چونکہ جذبےکی سچائی اور خلوص ہے اس لیے ان کی بات دلوں میں اتر جاتی ہے۔ انہوں نے جذباتی پیرائیہ بیان کرنے کی بجائے منطقی استدلال سے کام لیا ہے اور ہر موضوع پر علمی و تحقیقی نقطہ نظر سے لکھا ہے۔ مولانا کی تحریریں علمی رفعت و بصیرت کی حامل ہیں۔ آپ قاری میں بھی علمی بصیرت کی وہی روشنی پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ بے خود بہرہ یاب ہیں۔ مولانا اصحاب الرائے اور تقلید جامد کے خلاف بیباک نقاد ہیں مگر تنقید اس انداز سے کرتے ہیں کہ فریق مخالف برا ماننے کی بجائے قائل ہو جاتا ہے۔ اپنی تحریروں میں مولانا قاری کو قائل کر لیتے ہیں کہ حقیقت تک پہنچنے اور سچائی کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تحقیق ہے نہ کہ تقلید، اختصار ان کے بیان میں بڑا حسن پیدا کرتا ہے۔ وہ بے ضرورت جزئیات کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعض علماء کی تحریروں میں طنز و سوقیانہ الفاظ و فقرے ملتے ہیں مگر حضرت سلفی رحمہ اللہ کی تحریروں