کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 91
خیال میں بھی نہ تھا کہ اتنی جلدی اتنا عظیم الشان کام اس قدرپایہ تکمیل تک پہنچےگا۔ الحمدللہ ایک سال کے مختصر عرصہ میں جامعہ کی چار منزلہ بلڈنگ تیار ہو چکی ہے۔ ایک طرف بہت وسیع ہال معہ گیلریاں، بہترین نفیس کمرے، دفتر، سٹور روم، لائبریری وغیرہ تیار ہو چکی ہے۔ اساتذہ اور اراکین انجمن پر خلوص جذبہ کو دیکھ کر عوام الناس بے حد متاثر ہوئے اور قرب و جوار سے داخلہ کے خواہشمند آنے لگے۔ مقامی طالبات کا داخلہ تو کر لیا گیا مگر بیرونی طالبات کے لیے دارالاقامہ نہ تھا۔ چنانچہ مدرسہ سے ملحقہ دو مکانات خرید لیے گئے ہیں اور ان میں مناسب ترمیم و اضافہ کر کے بیرونی طالبات کے لیے کمرے بنا لیے گئے ہیں۔ طالبات کی تعداد مدرسہ ہذامیں مقامی طالبات کی تعداد 450 ہے۔ قرآن پاک اور کتب حدیث جامعہ کی انتظامیہ فراہم کرتی ہے۔ یک صد کے قریب بیرونی طالبات ہیں جن کی خوراک، رہائش، درس کتب کی فراہمی اور علاج و معالجہ کی سہولتیں جامعہ کی انتظامیہ کے ذمہ ہیں۔ [1] اساتذہ کرام اس وقت جامعہ میں 125 اساتذہ کرام درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ایک بہت بزرگ عالم دین مولانا محمد داؤد رحمانی انصاری جو دارالعلوم رحمانیہ کے فارغ التحصیل ہیں ان کی خدمات بھی مدرسہ کے لیے حاصل کر لی گئی ہیں۔ شیخ الحدیث رحمانی صاحب کے علاوہ درج ذیل اساتذہ تدریس فرائض کی بجا آوری کے لیے مصرف ہیں۔ بیگم ثریا شاہد رئیسۃ الجامعہ و مہتممہ جامعہ ھذا فوزیہ ناگی نائب رئیسۃ الجامعہ فرزانہ عبدالجلیل۔ روبینہ عبداللطیف۔ عفت بشیر۔ نعیمہ صدیقی۔ سلمی نورین محمد علی۔ عصمت برکات۔ صبیحہ بخشی بنت محمد شریف۔ روبینہ بشیر انصاری اور فوزیہ عبدالجلیل۔ شعبہ ناظرہ، تحفیظ القرآن و التجوید۔ میں قاریہ عائشہ بنت حاجی نواب دین، حافظہ قاریہ رفعت بنت محمد صدیق، حافظہ منور بھٹی بنت محمد اسلم، رضیہ بیگم عبدالرحیم اور عفت بشیر تدریس القرآن میں مصروف عمل ہیں جامعہ تعلیم القرآن سے تقریباً 8500 طالبات 25 سال کے عرصے [1] مجلّہ والضحی رمضان 1308ھ ص 16۔ 16